اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکپتن کے سابق ڈسٹرکٹ پولیس افسر رضوان گوندل کے ازخود نوٹس کیس میں پنجاب پولیس پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ مبینہ طور پر پولیس افسر کو دھمکانے والے افراد کو پیر کے دن ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دی دیا ۔
جمعہ کے روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمی کےتین رکنی بنچ نے رضوان گوندل کے تبادلے پر ازحود نوٹس کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے شروع میں چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کلیم امام سے پوچھا کہ یہ کیا قصہ ہےکہ گزشتہ پانچ دنوں سے پوری قوم اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے؟
اس موقع پر چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ایک بات بار بار کہ رہا ہوں کہ عدالت پولیس کو آزاد اور بااختیار بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ یا اس کے پاس بیٹھے شخص کے کہنے پر ڈی پی او کا تبادلہ ہوا تو یہ درست نہیں۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ ان پر رضوان گوندل کے تبادلے کے لیے کوئی دبائو نہیں تھا، تبادلہ محکمانہ طور پر کیا گیا۔ اسپیشل برانچ اور دیگر ذرائع سے پتہ چلا کہ رضوان گوندل درست معلومات نہیں دے رہے اس لے ان کا تبادلہ ہوا۔ کلیم امام نے کہا کہ تبادلہ سزا نہیں ہوتا۔
اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ تبادلہ رات کو ایک بجے کیوں کیا گیا؟ کیا صبح نہیں ہوسکتا تھا؟ انتہائی عجلت میں رات کو ایک بجے تبادلے کا نوٹفکیشن جاری کیا گیا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سیاسی مداخلت اور اثر ورسوخ برداشت نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کس طرح دباؤ کے تحت تبادلہ ہوتا ہے، انہوں نے استفسار کیا کہ ڈیرے پر بلا کر معافی مانگنے کا کیوں کہا گیا؟
عدالت نے اونچی آواز میں بات کرنے پرآ ئی جی کی سرزنش کی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں میں نے فلاں بات کی، آپ کون ہوتے ہیں؟
آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او رضوان گوندل کو بلایا۔
سابق ڈی پی او رضوان گوندل کا موقف
رضوان گوندل نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے پورا واقعہ کی تفصیل آئی جی پنجاب کو واٹس ایپ پر بھیجی، واقعے والے دن چار بجے فون آیا آپ رات دس بجے سے پہلے وزیراعلیٰ ہاوس پہنچ جائیں، جس پر وہ رات 10 بجے وہاں پہنچے۔
سابق ڈی پی او نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلی نے اپنے پاس بیٹھے احسن جمیل گجر کو بطور بھائی ان سے متعارف کرایا۔ احسن جمیل نے پوچھا مانیکا فیملی کا بتائیں لگتا ہے ان کے خلاف سازش ہورہی ہے۔ اس پرچیف جسٹس نے پوچھا کہ احسن جمیل کون ہے؟ رضوان گوندل نے جواب دیا کہ احسن گجر کی بیوی خاتون اول کی دوست ہے۔
رضوان گوندل نے جب عدالت کو بتایا کہ انہیں بیرون ملک سے بھی پیغام بھیجے گئے توچیف جسٹس نے پوچھا کہ پیغام بھیجنے والے کون تھے؟ گوندل نے جواب دیا کہ پیغام بھیجنے والوں میں ایک حساس ادارے کا افسر شامل تھا۔ انہوں نے میسج کیا کہ آپ ڈیرے پر چلے جائیں اور معافی مانگیں۔
پولیس افسر کے مطابق ایک فون بیرون ملک موجود میرے سینئر عظیم ارشد نے کیا، میں ابراہیم مانیکا (مسز عمران خان کے صاحبزادے) کو کال کرتا رہا کہ آپ میرے دفتر نہیں آسکتے تو گھر آجائیں۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ بڑی فیملی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ ڈیرے پر جاکر معافی مانگنے کا کیوں کہا گیا؟
کمرہ عدالت میں موجود آئی جی پنجاب کلیم امام کی سرزنش کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اپ بھی گریڈ 21 کے ہیں، کیسے گریڈ 22 کی پوسٹ پر ہیں؟ کیوں نا سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو بلا کر آپ کا تبادلہ کیا جائے؟
ریجنل پولیس آفیسر نے عالت کو بتایا کہ انہیں وزیراعلیٰ کے پی ایس او کی کال آئی اور انہیں بلایا گیا۔ آر پی او نے کہا کہ ناکے پر مانیکا صاحب نے پولیس کے روکنے کے باوجود گاڑی نہیں روکی،جب پولیس نے گاڑی کا پیچھا کرکے روکا تو مانیکا صاحب نے پولیس کو برا بھلا کہا۔
آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ جب ڈی پی او صاحب وزیراعلیٰ سے ملنے جارہے تھے انہوں نے کہا آج جارہے ہیں آئندہ نہیں جانا، اور وزیراعلیٰ صاحب سے بھی کہا آئندہ کسی کو بلانا ہو تو مجھ سے بات کریں۔ اس پر چیف جسٹس نے کلیم امام کو مخاطب کرتے ہونے پوچھا کہ رات کو کیا قیامت آگئی تھی کہ رضوان گوندل کو تبدیل کیا گیا،کیا صبح فساد پڑ جانا تھا؟ آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ انہوں نے کسی کی ہدایت پر تبادلہ نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے مکالمے کے دوران اپنا ہاتھ ٹیبل پر مارتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کی باتوں پر یقین نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہم آپ کے موقف کو مسترد کرتے ہیں کہ آپ کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتے۔ کلیم امام نے کہا کہ وہ سید ہیں، سچ بول رہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے وزیراعلیٰ کی ہدایات پر عمل کیا اور ڈی پی او کا تبادلہ کیا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے آئی جی سے پوچھا کہ جو معلومات رضوان گوندل نے عدالت کو بتائیں اور جو آپ کو بتائیں اس میں کیا فرق ہے؟ آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ پہلے بتایا گیا کہ لڑکی کو سیکیورٹی دی گئی، پھر بتایا گیا چیک پوسٹ پر کوئی مسئلہ ہوا میں نے کہا کاروائی کریں، مجھ سے واقعے کی تمام معلومات چھپائیں گئیں۔
اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اس میں ڈی پی او کا کیا قصور ہے؟ ڈی پی او بے قصور ہے۔ سماعت میں وقفہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے آئی جی کو کہا کہ جب بلائے گئے افراد آ جائیں تو اطلاع دے دیں ہم آ جائیں گے۔
ایڈیشنل آئی جی کی رپورٹ
سماعت کے دوران ایڈیشنل آئی جی ابوبکر نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی۔ ابو بکر کو آئی جی کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوایری افیسر مقرر کیا گیا تھا۔
ایڈیشنل آئی جی نے اپنی رپورٹ میں عدالت کو بتایا کہ خاتون سے بدتمیزی کا پہلا واقعہ 5 اگست کو پیش آیا، اور 6 اگست سے 23 اگست تک اس معاملے پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور نہ ہی کسی نے رابطہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ میری فائنڈنگ یہ ہے کہ ڈی پی او صاحب کو اس واقعے کی تحقیقات کرنی چاہیے تھی،ہم پبلک سرونٹ ہیں ہماری کوئی انا نہیں ہوتی، 24 تاریخ کو 18 دن بعد بتایا گیا کہ ایک فون بیرون ملک سے آیا اور دوسرا فون آئی ایس آئی کے کرنل نے کیا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیا کہ آپ کا موقف ہے کہ 5 اگست کے واقعے کی ڈی پی او کو تحقیقات کرنی چاہیے تھی، انہوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ اور عزت برقرار رہنی چاہیے۔ اس پر رضوان گوندل نے کہا کہ میں حلفاً کہتا ہوں مجھے کسی پولیس اہلکار نے نہیں بتایا کہ لڑکی سے بدتمیزی ہوئی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیا کہ پورے واقعے میں وزیراعلیٰ پنجاب کا کیا کام تھا اور وہ کہاں سے آگیا؟
وقفے کے بعد سماعت
وقفے کے بعد جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی توایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب قاسم علی نواز چوھان نے عدالت کو بتایا کہ گجرانوالہ میں ایس ایچ او احسن جمیل گجر کے گھر کے باھر کھڑے ہیں لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو پارہا ہے۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ابراھیم مانیکا لندن میں ہیں۔ خاور مانیکا سے رابطہ ہوا ہے وہ کہتے ہیں بیٹی کو لاھور لینے جائونگا اس کو گھر چھوڑ کر آئونگا۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ سب بہانے ہیں۔ کیا وہ غائب ہوگئے ہیں؟ چیف جسٹس نے کہا اس کیس کو اب پیر کو سنیں گے۔عدالت نے احسن جمیل گجر۔خاور مانیکا، ابراھیم مانیکا، کرنل طارق کو پیر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے رضوان گوندل اور آر پی او ساھیوال شارق کمال صدیقی کو کل تک اپنے بیان حلفی عدالت میں جمع کرانے کابھی حکم دے دیا۔
وزیر اعلی پنجاب کے پی ایسایم حیدر اور سی ایس او عمر کو بھی عدالت نے طلب کرلیا۔ ں چیف جسٹس نے عدالت میں موجود ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سے کہا کہ وہ آئندہ سماعت پر آرٹیکل 62 ون ایف پڑھ کر آئے گا۔ ھم نے عمران خان، جھانگیر ترین اور دیگر مقدمات کے فیصلوں میں اختیارات کے استعمال پر فیصلے دے چکے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا عدالت نے پرویز مشرف کیس میں بھی اختیارات کے استعمال پر فیصلہ دے چکی ہیں۔
سماعت پیر کی صبح تک ملتوی کر ی گئی۔
