لاہور: ایک طرف وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے فروغ کی تجاویز دیتے ہیں تو دوسری طرف پنجاب کے وزیرثقافت فیاض الحسن چوہان فلموں کے اشتہارات ہٹا دینے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
موجودہ حکومت کے مختلف وزرا اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے تنقید کا سامنا کر رہے ہیں، ہیلی کاپٹر کے اخراجات پر فواد چوہدری کے بیان کی دھول ابھی بیٹھی ہی تھی کہ فیاض الحسن چوہان نے تنازعات کی نئی گرد اڑا دی۔ انہوں نے میڈیا کو برا بھلا کہنے کے ساتھ ساتھ مختلف فلمی اداکاراؤں کے ساتھ غیرضروری جھگڑے مول لے لیے جس کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
صوبائی وزیراطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان اپنی چرپ زبانی کے باعث کافی مشہور ہیں لیکن وزارت سنبھالنے کے بعد اب یہی عادت انہی کے گلے پڑ گئی ہے۔
ایک نجی ٹی وی چینل نے ان کی چرپ زبانی کے پرانے کلپس چلائے تو وہ بُرا مان گئے اور پروگرام کے اختتام پر میڈیا کو گالیاں دے ڈالیں۔
فیاض الحسن چوہان کی جانب سے میڈیا کو بُرا بھلا کہنے والا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل تھا کہ موصوف نے اداکارہ نرگس کو حاجن اور اداکارہ میگھا کو 300 روزے رکھنے کا چیلنج کر دیا۔
اداکاراؤں کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرنے پر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور فیاض الحسن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا، تنقید کے اس سلسلے میں ان کے سیاسی مخالفین، میڈیا اور اداکاروں کے علاوہ پی ٹی آئی کے رہنما بھی شریک ہو گئے۔
اداکارہ میگھا نے صوبائی وزیر کو اپنے الفاظ واپس نہ لینے پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار اور وزیراعظم عمران خان سے واقعے کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر فیاض الحسن چوہان کو تھیڑ، ٹی وی اور سینما پسند نہیں تو وہ انہیں بند کر دیں لیکن کسی کی کردار کشی نہ کریں۔
اداکارہ نرگس نے بھی صوبائی وزیر کو محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ شوبز کو مکمل طور پر خیر باد کہہ چکی ہیں اس لیے وزیر ثقافت اپنے الفاظ کا چناؤ درست کر لیں۔
فیاض الحسن چوہان نے اپنی سیاست کا آغاز تو جماعت اسلامی سے کیا لیکن بعد میں وہ کپتان کی ٹیم کا حصہ بن گئے اور 2018 کے عام انتخابات میں پی پی 17 راولپنڈی سے کامیابی کے بعد کپتان نے وزارت اطلاعات و ثقافت کا عہدہ اُن کے حوالے کیا ہے۔
