کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کے فنانس ڈپارٹمنٹ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مشرف رسول کے خلاف چئیرمین اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کو خط لکھ دیا ہے۔
خط میں سی ای او پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے پی آئی اے کے فنانس ڈپارٹمنٹ کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔
بورڈ آف ڈائریکٹر کے جانب سے 2018 کے لیے متوقع کیش پلان 111 ارب روپے رکھا گیا لیکن انتظامیہ آپریشنل مسائل حل کرنے میں غیر سنجیدہ ہے جس کا واضح ثبوت آپریشنل نقصانات پر انتظامیہ کا اجلاس منعقد نہ کرنا ہے۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ جب فنانشل نتائج کا پردہ فاش ہوا تو موجودہ انتظامیہ نے اسے سازش قراردے دیا اور فنانس ڈپارٹمنٹ کو دباؤ میں لاکر غیر ضروری ادائیگیاں بھی کرائی گئیں۔
ان ادائیگیوں میں مارخور کی تصاویر اور لیگل کونسل جیسے بھاری معاوضوں کی ادائیگیاں شامل ہیں جبکہ موجودہ انتظامیہ نے فنانس ڈپارٹمنٹ کے 8 اہل افسروں کا تبادلہ بھی حقائق سے پردہ اٹھانے پر کیا۔
فنانس ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جانب سے گزشتہ دس سال کے آڈٹ کے احکامات پر فنانس ڈپارٹمنٹ دن رات کام کر رہا ہے۔
خط پر چیف فائننشل آفیسر (سی ایف او)، جنرل منیجر (جی ایم) اور دیگر اعلی حکام کے دستخط موجود ہیں۔
