اسلام آباد: بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ایک اور بڑا ڈیم تعمیر کرنے کا اعلان کر دیا۔
سندھ طاس معاہدے سے کنارہ کشی کے بعد مودی حکومت نے پہلا بڑا آبی منصوبہ منظور کر لیا۔ جس کے لیے 5 فروری کو باضابطہ ٹینڈر جاری کر دیئے گئے۔
بھارتی حکام کے مطابق چناب دریا پر 5 ہزار 129 کروڑ بھارتی روپے کی لاگت سے ساوالکوٹ میگا ڈیم منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی) نے ساوالکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کی تعمیر کے لیے بولیاں طلب کر لیں۔
منصوبے کے پہلے مرحلے میں ایک ہزار 406 میگاواٹ جبکہ دوسرے مرحلے میں 450 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔ ساوالکوٹ ڈیم، بگلیہار اور سلال منصوبوں کے درمیان چناب دریا پر واقع ہوگا۔ اور اسے رن آف دی ریور بنیادوں پر تعمیر کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق چناب دریا انڈس بیسن کا اہم حصہ ہے۔ اور پاکستان کے لیے نہایت حساس حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کی تقریباً 90 فیصد زراعت انڈس بیسن کے پانی پر انحصار کرتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے منصوبے پاکستان کے آبی مفادات کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کر دی
واضح رہے کہ پہلگام حملے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹر ٹریٹی) کے تحت ہونے والی تمام کارروائیوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ جس پر پاکستان اور عالمی ماہرین پہلے ہی شدید تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
