سوشل میڈیا پر سرائیکی زبان میں وائرل ہونے والی ویڈیوز کو جھوٹا اور گمراہ کن قرار دے دیا گیا ہے۔ ان ویڈیوز میں سابق چیئرمین نادرا عثمان یوسف مبین کا نام غلط طور پر استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جن شہریوں کے شناختی کارڈ پر ان کے دستخط موجود ہیں انہیں نقد مالی امداد دی جا رہی ہے، حالانکہ اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ ویڈیوز مکمل طور پر جعلی ہیں اور ان کا مقصد افواہیں پھیلا کر شہریوں کو گمراہ کرنا ہے۔ متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی من گھڑت معلومات سے عوام میں بے چینی پیدا کی جا رہی ہے، جس سے بچنے کی ضرورت ہے۔
نادرا نے پاکستان کے پہلے بَگ باؤنٹی چیلنج کا آغاز کر دیا
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی غیر مصدقہ معلومات پر ہرگز یقین نہ کریں اور کسی بھی خبر یا دعوے کی تصدیق مستند ذرائع سے ضرور کریں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ افواہیں پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ عوام ایسے مشکوک پیغامات اور ویڈیوز کو آگے شیئر کرنے سے گریز کریں اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔
