پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے “انڈس اے آئی ویک 2026” کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے پیر کے روز اسلام آباد میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہفتہ بھر جاری رہنے والی یہ سرگرمیاں ملک میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال، تحقیق اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کریں گی اور پاکستان کو عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے میدان میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب صرف دنیا میں ہونے والی تکنیکی تبدیلیوں کو دیکھنے والا ملک نہیں رہے گا بلکہ خود بھی اے آئی کے میدان میں اپنا مضبوط نظام تشکیل دے گا۔
شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے ڈیجیٹلائزیشن کے مختلف منصوبوں کے ذریعے پہلے ہی بنیاد رکھ دی ہے، جبکہ ستمبر 2025 میں متعارف کرائی گئی نیشنل اے آئی پالیسی اب عملی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2026 اس پالیسی کے نفاذ کا سال ہوگا اور انڈس اے آئی ویک اس سلسلے میں اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
اس ایونٹ میں جامعات، عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور دفاعی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مختلف منصوبوں کی نمائش، پالیسی ڈائیلاگز، تربیتی پروگرامز اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے اے آئی سے متعلق آگاہی اور مہارت کو بڑھانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے نیشنل اے آئی فنڈ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار تیز کی جا سکے۔ انہوں نے بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور شراکت دار حکومتوں کو بھی پاکستان کے ساتھ طویل المدتی تعاون کی دعوت دی۔
انڈس اے آئی ویک 9 سے 15 فروری تک جاری رہے گا، جس میں انڈس اے آئی سمٹ، انوویشن و لرننگ ایکسپو اور ملک بھر کی جامعات میں مختلف سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد اے آئی کے ذریعے گورننس، معیشت اور عوامی خدمات کو بہتر بنانا، نوجوانوں اور خواتین سمیت مختلف طبقات کو ٹیکنالوجی سے جوڑنا اور پاکستان کو ابھرتے ہوئے اے آئی حب کے طور پر متعارف کرانا ہے۔
