بلڈ گروپ صرف خون کی منتقلی یا ہنگامی حالات تک محدود معلومات فراہم نہیں کرتا، بلکہ یہ انسانی صحت سے متعلق بعض اہم خطرات کی نشاندہی بھی کر سکتا ہے۔
بی ایم سی کینسر (BMC Cancer) کی جانب سے شائع تحقیق کے مطابق معدے کے کینسر کے حوالے سے بلڈ گروپ اور بیماری کے خطرے کے درمیان ایک ممکنہ تعلق پایا گیا ہے۔ بلڈ گروپ اے اور اے بی رکھنے والے افراد میں معدے کے کینسر کا خطرہ دیگر گروپوں کے مقابلے میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔
شارٹ ویڈیوز: سہولت یا ذہنی صحت کے لیے خطرہ؟ ماہرین کی وارننگ
اعداد و شمار کے مطابق بلڈ گروپ اے سے تعلق رکھنے والے افراد میں بلڈ گروپ او کے مقابلے میں معدے کے کینسر کا خدشہ تقریباً 13 سے 19 فیصد زیادہ پایا گیا، جبکہ اے بی گروپ کے حامل افراد میں یہ شرح تقریباً 18 فیصد تک دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلڈ گروپ اے والے افراد میں ایک مخصوص جرثومے ہیلیکوبیکٹر پائلوری (Helicobacter pylori) سے متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جو معدے کی سوزش اور بعد ازاں کینسر کی ایک اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔

تاہم تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس جرثومے کی عدم موجودگی میں بھی بعض افراد میں کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیگر حیاتیاتی عوامل بھی اس عمل میں کردار ادا کرتے ہیں۔
طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بلڈ گروپ بذاتِ خود کینسر کی براہِ راست وجہ نہیں بلکہ مدافعتی نظام کی کمزوری، جسمانی سوزش، خلیات کے باہمی تعاملات اور معدے کی کیمیائی ساخت جیسے عوامل مل کر بیماری کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ غیر صحت بخش غذائی عادات، تمباکو نوشی، موٹاپا، بعض انفیکشنز، ماحولیاتی اثرات اور عمر میں اضافہ بھی معدے کے کینسر کے خطرے میں اضافہ کرنے والے عناصر میں شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بیماری مردوں میں خواتین کے مقابلے میں زیادہ تشخیص کی جاتی ہے۔
پاکستان اب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کیلئے تیار ہے، وزیراعظم
ڈاکٹروں کی جانب سے عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں، متوازن غذا استعمال کریں، تمباکو نوشی سے اجتناب کریں اور کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں بروقت طبی معائنہ کروائیں، کیونکہ احتیاط اور بروقت تشخیص کئی جان لیوا بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
