وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کیلئے تیار ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انڈس اے آئی ویک ایونٹ ملک کے ٹیکنالوجیکل منظرنامے کو بدل دے گا اور یہ ایونٹ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک مضبوط ٹیکنالوجی پارٹنر کے طور پر سامنے لائے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان مشترکہ راہ پر عزم اور جوش کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور اب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب انہوں نے تعلیم، صحت اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے، جن میں آئی ٹی کے شعبے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ان اقدامات میں ہونہار طلبہ کو لیپ ٹاپ کی فراہمی، ای لائبریریز کا قیام، لاہور میں پہلا سیف سٹی منصوبہ اور ملک کی پہلی آئی ٹی یونیورسٹی کا قیام شامل ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ زمین کے ریکارڈ میں اصلاحات کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنایا گیا، جس سے کرپشن کے خاتمے میں مدد ملی۔ انہوں نے بتایا کہ لینڈ ریکارڈ اصلاحات سے ریونیو افسران کی بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہوا اور ای اسٹامپ پیپرز کے اجرا سے قومی آمدن میں اضافہ ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی 24 کروڑ آبادی میں سے 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جنہیں جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایک ملین غیر آئی ٹی پروفیشنلز کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دی جائے گی جبکہ اے آئی کے شعبے میں ایک ہزار مکمل فنڈز شدہ پی ایچ ڈی اسکالرشپس بھی فراہم کی جائیں گی۔
عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد، ہم بغیر نوٹس ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے، سپریم کورٹ
وزیراعظم نے مزید کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے بندرگاہوں پر جدید اسکینرز اور آلات نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ حکومت دیہی علاقوں تک جدید تعلیم اور تکنیکی مہارتیں پہنچانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں، تاہم درست پالیسیوں کے ذریعے پاکستان اس شعبے میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
