دنیا بھر کے سنٹرل بینکس اپنے ممالک کے سونے کے ذخائر کو اپنی معاشی سلامتی اور زرمبادلہ کے پائیدار ذخائر کے اہم حصہ کے طور پر رکھتے ہیں، اور تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ سب سے زیادہ سونا رکھنے والا ملک ہے جس کے پاس تقریباً 8,133 ٹن سونا ہے۔
اس کے بعد جرمنی تقریباً 3,350 ٹن، اٹلی 2,452 ٹن، فرانس 2,437 ٹن، اور روس 2,327 ٹن سونے کے ذخائر کے ساتھ نامور سرکردہ ممالک ہیں، جبکہ چین کے ذخائر تقریباً 2,306 ٹن ہیں۔ سوئٹزرلینڈ تقریباً 1,040 ٹن، بھارت 880 ٹن اور جاپان کے ذخائر 846 ٹن کے قریب ہیں۔
اسی طرح ترکی اور نیدرلینڈ تقریباً 600 ٹن کے ارد گرد سونے کے ذخائر رکھتے ہیں، جس سے یہ ممالک دنیا میں سب سے زیادہ سونا رکھنے والے 10 ممالک کے شمار میں شامل ہیں۔
اسی لسٹ کے نیچے وہ ممالک بھی ہیں جن کے پاس سب سے کم سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ ان میں افریقہ، ایشیا اور کچھ یورپی ممالک شامل ہیں، جیسے آرمینیا، کینیا، فیجی اور یورگوئے جہاں ذخائر 1 ٹن سے بھی کم ہیں۔
اس فہرست میں آرمینیا کے پاس صفر ٹن سونا درج ہے، جبکہ کینیا کے پاس تقریباً 0.02 ٹن، فیجی کے پاس 0.03 ٹن، اور یورگوئے کے پاس تقریباً 0.1 ٹن سونے کے ذخائر ہیں، جو انہیں سب سے کم ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل کرتے ہیں۔
پاکستان کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس کے پاس تقریباً 64.77 ٹن سونے کے ذخائر موجود ہیں، جس کے باعث وہ عالمی فہرست میں درمیانے درجے پر آتا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے ذخائر بہت کم طاقتور معیشتوں کی سطح کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہیں، یہ بڑے ذخائر رکھنے والے ممالک سے بہت پیچھے ہے، لیکن کئی چھوٹے ممالک کے مقابلے میں اس کے ذخائر زیادہ ہیں۔
واضغ رہے کہ یہ ڈیٹا TradingEconomics کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے جو عالمی سونے کے ذخائر کے حوالے سے معتبر معلومات فراہم کرتا ہے۔
