نائیجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں سانپ کے ڈسنے سے معروف ابھرتی ہوئی گلوکارہ افنانیا نوانگین کے انتقال کے بعد ملک میں نظامِ صحت پر شدید تنقید اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
26 سالہ افنانیا نوانگین کو عالمی ٹی وی شو دی وائس نائیجیریا میں ریحانا کے مشہور گانے ٹیک اے بو کی شاندار پرفارمنس کے بعد خاصی شہرت حاصل ہوئی تھی۔ رپورٹس کے مطابق وہ اپنے گھر میں سو رہی تھیں کہ ایک زہریلے کوبرا نے ان کی کلائی پر ڈس لیا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں سانپ پکڑنے والے افراد کو گلوکارہ کے اپارٹمنٹ سے درمیانے سائز کے سانپ نکالتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ مجموعی طور پر دو سانپ پکڑے جانے کی اطلاعات ہیں۔
مرحومہ کی قریبی دوست پاسکل نوورگو کے مطابق ابتدائی کلینک میں اینٹی وینم دستیاب نہ ہونے کے باعث افنانیا نوانگین کو فیڈرل میڈیکل سینٹر جابی منتقل کیا گیا، تاہم وہاں پہنچنے تک ان کی حالت تشویشناک ہو چکی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گلوکارہ سانس لینے میں شدید دشواری کا شکار تھیں اور صرف اشاروں کے ذریعے بات کر پا رہی تھیں۔
ایک اور قریبی ساتھی ایزوگوو نے بتایا کہ ہسپتال میں ایک اینٹی وینم تو فراہم کی گئی، تاہم مزید ضروری دوا دستیاب نہ ہونے کے باعث بروقت علاج ممکن نہ ہو سکا۔ دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مریضہ کو فوری اور مکمل طبی امداد دی گئی، تاہم وہ شدید اعصابی پیچیدگیوں میں مبتلا تھیں اور آئی سی یو منتقل کیے جانے سے قبل ہی ان کی حالت بگڑ گئی۔
افنانیا نوانگین کی موت کے بعد نائیجیریا بھر میں نظامِ صحت خصوصاً اینٹی وینم کی عدم دستیابی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ سماجی حلقے حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 50 لاکھ افراد کو سانپ ڈسنے کے واقعات پیش آتے ہیں، جن میں سے قریباً ایک لاکھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جبکہ افریقہ میں مؤثر اینٹی وینم کی قلت ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
