اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں پیش آنے والا دھماکا انتہائی افسوسناک واقعہ تھا جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ حملے کے ماسٹرمائنڈ کا تعلق کالعدم داعش سے ہے اور وہ اب ہماری حراست میں ہے، سی ٹی ڈی اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں نے واقعہ سے منسلک سہولت کاروں اورماسٹرمائنڈ کو گرفتارکرلیا ہے جبکہ پشاوراورنوشہرہ میں چھاپے مارے گئے چھاپوں کے دوران ایک اہلکارشہید اورچند دیگرزخمی ہوئے۔
محسن نقوی نے بتایا کہ دہشت گردوں کو افغانستان میں تربیت دی گئی اورحملے کی پلاننگ بھی وہاں سے ہوئی، دہشت گردوں کی فنڈنگ بھارت کی جانب سے کی جا رہی ہے، جس میں حالیہ مہینوں میں اضافہ بھی ہوا ہے۔
اسلام آباد کی مسجد میں دھماکا قابل مذمت ہے ، افغان وزارت خارجہ
وزیر داخلہ نے کہا کہ سابق بجٹ 500 ڈالر تھا، اب 1500 ڈالر دیا جا رہا ہے اور بھارت نے مئی میں ناکامی کے بعد دہشت گردی کے بجٹ میں تین گنا اضافہ کر دیا ہے، تاہم پاکستان اس واردات کو روکنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کمیونٹی کی انٹیلی جنس میں تعاون کریں کیونکہ ملک حالت جنگ میں ہے۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے آپریٹ کر رہی ہیں اور پاکستان کے خلاف حملے منظم انداز میں کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چار دہشت گرد اسلام آباد دھماکے کے بعد پکڑے گئے ہیں اور دھماکے سے پہلے دو افراد نے ریکی کی تھی۔
محسن نقوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی خبردار کیا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث اکاؤنٹس بند نہ کیے گئے تو مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد کے 93 داخلی راستے ہیں اور ریڈ زون میں پولیس کی 80 فیصد نفری 50 سال سے زیادہ عمر کی ہے، جس سے سیکیورٹی چیلنجز پیدا ہوتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں اور سہولت کار مل کر کارروائیاں کر رہے ہیں، اور دشمن کی کوئی کیٹیگریز نہیں ہوتیں، جو پاکستان کے خلاف منصوبے بناتے ہیں ان سے ہر ممکنہ سطح پر نمٹا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اب تک 99 دھماکے روک کر دہشت گردوں کی سازشوں کو ناکام بنایا ہے اورآئندہ بھی یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
