دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے اپنی خلائی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کو اپنی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ایکس اے آئی (xAI) کے ساتھ ملا دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس ملاپ کے نتیجے میں نئی کمپنی کی مجموعی مالیت تقریباً 1.25 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، اور یہ اس نوعیت کا سب سے بڑا کاروباری اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
والدین کے آن لائن گیمنگ پر اعتراض پر تین بہنوں نے افسوسناک قدم اٹھایا
اس کے بعد ایلون مسک کی ذاتی دولت میں تقریباً 84 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ان کی کل دولت 852.5 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو انہیں دنیا کا سب سے امیر انسان بناتی ہے۔
معاہدے کے تحت اسپیس ایکس کی مالیت تقریباً 1 ٹریلین ڈالر اور ایکس اے آئی کی مالیت تقریباً 250 بلین ڈالر تخمینی ہے۔ ملاپ کے بعد ایکس اے آئی کے شیئرز کو اسپیس ایکس کے شیئرز میں تبدیل کیا جائے گا، اور دونوں کمپنیوں کے اے آئی، راکٹ ٹیکنالوجی، اسٹارلنک سیٹلائٹ نیٹ ورک اور دیگر جدید منصوبے ایک ساتھ کام کریں گے۔
مالی اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ملاپ نہ صرف اسپیس ایکس کو مستقبل کے ڈیٹا سینٹرز، اے آئی خدمات اور خلائی منصوبوں میں مضبوط مقام دے گا بلکہ اسے ممکنہ عوامی سرمایہ کاری (IPO) کے لیے بھی تیار کرے گا، جس کا امکان اس سال جون میں ہے۔
طبی میدان میں تاریخی انقلاب، سائنس کی نئی دریافت
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تاریخی اقدام اے آئی، خلائی تحقیق اور عالمی کاروباری دنیا میں نئی راہیں کھولنے والا ہے، جبکہ ناقدین نے کمپنی کی قدر اور تخمینوں پر کچھ سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
