سائنسدانوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں ایک تاریخی تجربہ کامیابی سے مکمل کیا ہے، جس میں انسانی اسٹیم سیلز کی مدد سے لیبارٹری میں خون کے خلیے تخلیق کیے گئے۔
تحقیق کے مطابق اس جدید تکنیک سے انسانی ابتدائی نشوونما کے مراحل کی نقل ممکن ہوئی ہے، جو عام طور پر حمل کے چوتھے اور پانچویں ہفتے میں رونما ہوتے ہیں اور براہِ راست مشاہدہ مشکل ہوتا ہے۔
معروف اداکار رام چرن کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش، مداحوں میں خوشی کی لہر
تحقیقاتی ٹیم نے اسٹیم سیلز سے تین ڈھانچے تیار کیے، جنہیں ہیماٹوئڈ کہا جاتا ہے۔ یہ ڈھانچے خود بخود منظم ہو کر تقریباً دو ہفتوں میں خون پیدا کرنے لگے۔ یہ ماڈل جنین کے اصل اجزاء جیسے پیلا تھیلا یا پلیسنٹا کے بغیر کام کرتا ہے، مگر انسانی جسم میں خون اور دیگر بافتیں بنانے والے اہم خلیات کی پیدائش کرتا ہے۔
تحقیق کے دوران محققین نے دیکھا کہ آٹھویں دن تک ایسے خلیے وجود میں آئے جو دل کے دھڑکنے جیسی خصوصیات رکھتے ہیں، جبکہ تیرہویں دن سرخ خون کے خلیے واضح ہو گئے۔ پیدا ہونے والے ہیماٹوپائیٹک اسٹیم سیلز بعد میں آکسیجن لے جانے والے سرخ خلیوں اور مدافعتی نظام کے سفید خلیوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
سردیوں میں بالوں کے جھڑنے کی وجوہات اور بچاؤ کے مؤثر طریقے
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تکنیک نہ صرف خون کے امراض جیسے لیوکیمیا کے علاج اور تحقیق میں انقلاب لا سکتی ہے، بلکہ مستقبل میں ری جنریٹو میڈیسن میں بھی اہم کردار ادا کرے گی، جہاں مریض کے اپنے خلیوں سے خون یا اسٹیم سیلز تیار کر کے ٹرانسپلانٹ کیا جا سکے گا۔
