فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے آئیپسوس کے اشتراک سے پاکستان کا پہلا مقامی سطح پر تیار کردہ “انڈیکس آف ٹرانسپیرنسی اینڈ اکاؤنٹیبلٹی اِن پاکستان (iTAP)” باضابطہ طور پر لانچ کر دیا۔
اس حوالے سے تقریب ایف پی سی سی آئی کیپٹل ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال تھے۔
تقریب سے ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ اور پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے بھی خطاب کیا جبکہ سرکاری و نجی شعبے، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔
iTAP کا تصور مئی 2025 میں ایف پی سی سی آئی کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، جس کا مقصد پاکستان میں شفافیت اور احتساب کی سطح جانچنے کے لیے ایک مستقل اور مقامی معیار تیار کرنا ہے۔ یہ سروے دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے دوران کیا گیا، تاکہ تازہ اور قومی سطح پر نمائندہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
سروے کے ابتدائی نتائج کے مطابق اگرچہ عوامی سطح پر منفی تاثر موجود ہے، تاہم اکثریت نے سرکاری اداروں کے ساتھ اپنے ذاتی معاملات کو بدعنوانی سے پاک قرار دیا۔ رپورٹ میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ شفافیت کو مزید مضبوط بنانے، آگاہی کے خلا کو کم کرنے اور ادارہ جاتی بہتری کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا آئندہ اہم چیلنجز ہیں، جو عوامی اعتماد اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایف پی سی سی آئی کو شفافیت اور احتساب جیسے اہم قومی موضوع کو سنجیدگی اور تحقیق کے ساتھ اجاگر کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت اور احتساب اچھی حکمرانی کی بنیاد ہیں اور شہری اطمینان، کاروباری ماحول، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
وزیرِ منصوبہ بندی نے عوامی تاثر اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اگر منفی تصورات کو بروقت درست نہ کیا جائے تو وہ قومی ترقی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس فرق کو کم کرنا ریاست، اداروں اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اگر iTAP کو مستقل بنیادوں پر اپ ڈیٹ کیا جاتا رہا تو یہ اصلاحات اور نگرانی کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ “جسے ناپا جائے، اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے”۔
