پاکستان نے بھارت میں نیپا وائرس کے دو تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں داخل ہونے والے افراد کے لیے سخت صحت اسکریننگ اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔ اس کے تحت ہر مسافر کی جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
سرکاری حکام کے مطابق تمام داخلی پوائنٹس، چاہے وہ ہوائی اڈے، زمینی سرحدیں یا سمندری بندرگاہیں ہوں، تمام مسافروں کی تھرمل اسکریننگ، طبی معائنہ اور گذشتہ 21 دنوں کے سفر کی تفصیلات حاصل کی جائیں گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی شخص نیپا وائرس کے متاثرہ علاقوں سے تو متاثر نہ ہو کر آیا ہو۔
جان لیوا نیپا وائرس کیا ہے؟ علامات، علاج اور حفاظتی اقدامات
رپورٹ کے مطابق پاکستان اس اقدام کے ذریعے ایشیائی ممالک جیسے تھائی لینڈ، سنگاپور، ہانگ کانگ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ویتنام کے اقدامات کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کر رہا ہے، جہاں ہوائی اڈوں پر صحت کے چیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
نیپا وائرس ایک مہلک بیماری ہے، جس کے لیے کوئی ویکسین موجود نہیں اور اس کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر پھلوں والے چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور محدود انسانی رابطے سے پھیل سکتا ہے۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ نیپا وائرس پر قابو پا لیا گیا ہے اور اب تک بڑے پیمانے پر پھیلاؤ نہیں ہوا۔ تاہم آس پاس کے ممالک احتیاطی طور پر سخت چیکس نافذ کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے
