عالمی مالی منڈی میں سونے اور چاندی کے نرخ چند منٹوں میں اچانک شدید گِر گئے جس سے مجموعی طور پر 3 ٹریلین ڈالر (تین کھرب ڈالر) سے زائد مارکیٹ ویلیو تقریباً ختم ہو گئی۔
یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کو چونکا دیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق قیمتی دھاتوں نے گزشتہ چند ہفتوں میں ریکارڈ سطحیں چھوئیں تھیں، لیکن پھر اچانک سونا تقریباً 5 فیصد اور چاندی 8 فیصد سے زائد کی گراوٹ میں آ گئیں، جس سے مارکیٹ میں بھاری مالی نقصانات ریکارڈ ہوئے۔
تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد سونے کی قیمت دھڑم سے گر گئی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیزی سے قیمتوں میں کمی کے پیچھے چند اہم وجوہات ہیں: ریکارڈ منافع کے بعد سرمایہ کاروں کا اپنے حصص بیچنا (profit taking)، سپیچولیٹو ٹریڈنگ، گلوبل معاشی غیر یقینی صورتحال اور جیو پولیٹیکل تناؤ۔
کچھ سرمایہ کاروں نے اس تیز کمی کو مارکیٹ میں منیپولیشن یعنی جان بوجھ کر قیمتیں نیچے کرنے سے منسلک کیا ہے، لیکن کسی بھی اہم حکومتی ادارے نے اس قسم کی منیپولیشن کی تصدیق نہیں کی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سونے اور چاندی کے بازار نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں، جس کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ تیزی سے ہو سکتا ہے۔
تجزیہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فیڈرل ریزرو کے فیصلے، کرپٹو سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب اور ای ٹی ایفز (اکسچینج ٹریڈڈ فنڈز) نے بھی مارکیٹ کی بے چینی میں اضافہ کیا ہے، جس سے قیمتی دھاتوں کے نرخوں پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
سونے کے بعد چاندی کی قیمت بھی گر گئی
ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اتنی تیزی سے کمی ہونا اچانک جنون کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے جب سرمایہ کار فوری منافع بیچنے پر مجبور ہو جائیں، خاص طور پر جب سونے اور چاندی نے حال ہی میں تاریخی ریکارڈ بنائے تھے۔
