سندھ کے وزیرِ اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کے معروف ٹی وی میزبان تابش ہاشمی کے سندھ کی حکمرانی پر دئیے گئے ریمارکس پر شدید ردعمل دینے کے بعد، اداکار عمران عباس نے تابش ہاشمی کے حق میں کھل کر بیان دیا ہے۔
عمران عباس نے اپنے انسٹاگرام اسٹوری میں کہا کہ اگر سیاست دان شہر کے بنیادی مسائل کو اتنی ہی سنجیدگی سے لیتے جتنی سنجیدگی وہ تابش ہاشمی کے ایک طنزیہ جملے پر دکھا رہے ہیں، تو وہ ان حقیقی مسائل پر کبھی نظرانداز نہ کرتے جن کی نشاندہی ہاشمی نے کی ہے۔
اریجیت سنگھ نے پلے بیک سنگنگ سے ریٹائرمنٹ کیوں لی؟ وجوہات سامنے آ گئیں

واضح رہے کہ تابش ہاشمی نے صوبائی حکومت اور کراچی کی بلدیاتی انتظامیہ کی کارکردگی پر طنزیہ انداز میں شدید تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ کراچی کو بھی پی آئی اے (PIA) کی طرح پرائیوٹائز کر دیا جائے اور شہری آپس میں چندہ جمع کر کے اپنا شہر خود خرید لیں، کیونکہ شہری چاہ کر بھی شہر کو اس سے زیادہ خراب انداز میں نہیں چلا سکتے جتنا اس وقت چلایا جا رہا ہے۔
تابش ہاشمی نے مزید کہا کہ وہ وزیرِاعلیٰ کی پریس کانفرنس دیکھ چکے ہیں جس میں خود کو جوابدہ قرار دیا گیا اور انکوائری کا اعلان کیا گیا۔ لیکن صرف یہ کہنا کہ “میں جوابدہ ہوں”، اصل جوابدہی نہیں ہے۔ جوابدہی ایک مکمل عمل ہے۔ اگر کسی کے دورِ اقتدار میں مسلسل ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں تو محض بیانات کافی نہیں، بلکہ مستعفی ہونا ہی مناسب عمل ہے۔
منگل کے روز پریس کانفرنس میں شرجیل انعام میمن سے تابش ہاشمی کے بیان کے حوالے سے سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے کہا کہ یہ ریمارکس کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ وزیر نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ جس شخص نے یہ بیان دیا، اس کے خلاف داخلی انکوائری کی جائے۔
شرجیل میمن نے تابش ہاشمی کو “کم فہم” اور “غیر سنجیدہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ کبھی قانون کا مطالعہ کیا، نہ تاریخ پڑھی اور نہ ہی سندھ کے جغرافیے کا صحیح ادراک ہے، ایسے افراد پر زیادہ توجہ دینا مناسب نہیں کیونکہ ان کی بات کی کوئی اہمیت نہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی اختیار ہے۔
تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد سونے کی قیمت دھڑم سے گر گئی
واضح رہے کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 73 قیمتی جانوں کا ضیاع، کروڑوں روپے کا مالی نقصان اور ایک بار پھر زخمی ہونے والے شہریوں کے بعد، شاید وقت آ گیا ہے کہ سیاستدانوں سے لے کر کراچی کے شہریوں تک سب سنجیدگی سے یہ سوال کریں کہ آخر کراچی کے مسائل کا مستقل حل کیا ہے۔
