امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے شدید سرد موسم کے باعث ایک ہفتے کے لیے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر حملے نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں کابینہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر صدر پیوٹن سے درخواست کی تھی کہ شدید سردی کے دوران یوکرینی شہروں پر حملے نہ کیے جائیں، جس پر پیوٹن نے اتفاق کیا۔
ٹرمپ کے مطابق، “میں نے صدر پیوٹن سے کہا کہ ایک ہفتے کے لیے کیف اور دیگر قصبوں پر حملے نہ کیے جائیں، اور انہوں نے اس پر رضامندی ظاہر کی۔”
روس کی جانب سے تاحال اس مبینہ معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ روس اپنے وعدے پر عمل کرے گا۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کا یہ اعلان انتہائی سرد موسم کے دوران کیف اور دیگر شہروں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے امکان سے متعلق ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے یوکرینی اور روسی ٹیموں کے درمیان متحدہ عرب امارات میں بات چیت بھی ہو چکی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دنوں میں کیف کا درجہ حرارت منفی 24 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ہے، جس کے باعث حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ روس 2022 میں مکمل حملے کے بعد سے شدید سردیوں کے دوران یوکرین کے توانائی کے انفرا اسٹرکچر کو مسلسل نشانہ بناتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بجلی اور حرارت سے محروم ہو چکے ہیں۔
بی بی سی کے مطابق یوکرین نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر روس حملے روک دیتا ہے تو وہ جواباً روسی آئل ریفائنریز پر حملے عارضی طور پر معطل کر دے گا۔
