آج کل بہت سے لوگ اپنی نیند کی نگرانی کے لیے سمارٹ واچز، اسمارٹ رنگز اور موبائل ایپس کا استعمال کر رہے ہیں، لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ڈیوائسز کتنی درست معلومات فراہم کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ آلات براہِ راست نیند نہیں ناپتے بلکہ دل کی دھڑکن (ہارٹ ریٹ) اور جسمانی حرکات کی بنیاد پر نیند کے بارے میں اندازہ لگاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی درستگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔
ایلون مسک کی واٹس ایپ پر سخت تنقید، صارفین کی پرائیویسی کو خطرہ
ایپل واچ، فِٹ بِٹ، اور اورا رنگ جیسی تمام ٹریکرز حرکت اور دل کی دھڑکن کو ریکارڈ کر کے نیند کے مختلف مراحل اور دورانیے کا اندازہ لگاتی ہیں۔ اگرچہ یہ ڈیوائسز نیند کے شروع ہونے اور ختم ہونے کے اوقات میں کافی حد تک درست ہیں، مگر گہری نیند (ڈیپ سلیپ) یا ریپڈ آئی موومنٹ (REM) کے مخصوص مراحل کی پیمائش ابھی بھی مکمل طور پر قابل اعتماد نہیں ہے۔
ماہرِ نیورولوجی ڈاکٹر شینٹائل برانسون کا کہنا ہے کہ بہت سے صارفین اپنے فٹنس ٹریکر کے تفصیلی نیند اسکورز پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، جس کے باعث وہ نیند کے اصل معیار پر دھیان کم دیتے ہیں، زیادہ اہم چیز بہتر نیند کی عادات (Sleep Hygiene) جیسے جلد سونے کا معمول، اسکرین سے پرہیز، اور پرسکون ماحول بنانا ہے۔
کچھ صارفین کے مطابق یہ آلات انہیں صحت مند نیند کے معمولات اپنانے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ کچھ کے لیے ان کے نیند اسکورز کی وجہ سے بے چینی بڑھ گئی، جس سے نفسیاتی دباؤ بھی پیدا ہوا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر نیند کا ڈیٹا پریشانی یا الجھن پیدا کرے تو پیشہ ورانہ مشورہ حاصل کرنا بہتر ہے۔
ناسا کی نئی حیران کن تصاویر: سولر سسٹم کا ممکنہ اختتام قریب؟
مستقبل میں ایسی تکنیکیں بھی سامنے آ سکتی ہیں جو صحت کے مسائل کی ابتدائی نشاندہی کریں یا دور دراز علاقوں میں صحت کی نگرانی میں مددگار ثابت ہوں، تاہم فی الحال یہ ڈیوائسز کلینیکل نیند لیبارٹری کے برابر نتائج فراہم نہیں کرتیں۔
