امریکہ کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی زندگی پر مبنی دستاویزی فلم ریلیز سے قبل ہی تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلم کے آغاز سے پہلے بڑے شہروں میں سینما گھروں میں ٹکٹوں کی فروخت نہ ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جس سے پروجیکٹ کو باکس آفس پر ناکامی کا سامنا ہے۔
تابش ہاشمی کے بیان پر شرجیل میمن برہم، ٹی وی چینل سے نوٹس لینے کا مطالبہ
یہ دستاویزی فلم 75 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی ہے اور اس میں میلانیا ٹرمپ کی ذاتی زندگی، کاروباری سرگرمیاں، فلاحی اقدامات اور خاندان کے ساتھ تعلقات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
فلم کے حقوق ایمیزون نے خریدے، جس کے لیے تقریباً 40 ملین ڈالر لاگت آئی، جبکہ مارکیٹنگ، پروموشن اور ڈسٹری بیوشن پر مزید 35 ملین ڈالر خرچ کیے گئے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق نیویارک، لندن اور لاس اینجلس جیسے بڑے شہروں میں فلم کی ابتدائی ریلیز کے دوران سینما ہالز تقریباً خالی رہے۔ سوشل میڈیا پر خالی سینما گھروں کی تصاویر وائرل ہو رہی ہیں، اور ناظرین نے اس فلم کو باکس آفس پر ناکام قرار دیا ہے۔
مریم نواز کے ساتھ تصویر نہ ہونے پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ، کیپٹن صفدر بھی بول پڑے
فلم کی ٹیم کے بعض اراکین نے تنقید کے بعد اپنے نام اینڈ کریڈٹس سے ہٹانے کا فیصلہ کیا، جس سے پروجیکٹ کے گرد مزید بحث پیدا ہوئی ہے۔ ابتدائی ہفتے کی متوقع آمدنی صرف 1 سے 2 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے، جو کہ فلم کی پیداوار اور مارکیٹنگ پر ہونے والی کل لاگت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
میلانیا ٹرمپ نے خود اس دستاویزی فلم میں اپنے کردار کی عکاسی کی ہے اور رپورٹس کے مطابق انہیں اس کے لیے تقریباً 28 ملین ڈالر معاوضہ دیا گیا ہے۔ تاہم، ابتدائی ناکامی نے نہ صرف باکس آفس کے اہداف کو متاثر کیا ہے بلکہ سوشل میڈیا اور فلمی مبصرین کے سخت تنقیدی جائزے بھی سامنے آئے ہیں۔
