کوہستان میں سامنے آنے والے چالیس ارب روپے کے میگا کرپشن اسکینڈل میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔
اسکینڈل میں ملوث اور مبینہ طور پر ارب پتی بننے والے ڈمپر ڈرائیور ممتاز نے قومی خزانے میں چار ارب روپے سے زائد رقم جمع کروانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس کے بعد پشاور کی احتساب عدالت نے اس کی پلی بارگین کی درخواست منظور کر لی ہے۔
احتساب عدالتوں کے انتظامی جج ظفر خان نے گزشتہ روز ملزم ممتاز اور دیگر ملزمان کی پلی بارگین سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیورٹر جنرل نیب خیبر پختونخوا محمد علی عدالت میں پیش ہوئے اور جج کو کیس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
نیب حکام کے مطابق ملزم ممتاز کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں براہ راست ملوث ہے اور تحقیقات کے دوران اس کے بینک اکاؤنٹس میں چار ارب روپے سے زائد کی مشکوک ٹرانزیکشنز کے ٹھوس شواہد حاصل کیے گئے ہیں۔
نیب کے مطابق تحقیقات کے دوران ملزم نے رضاکارانہ طور پر پلی بارگین کی درخواست جمع کروائی، جس میں اس نے غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی رقم قومی خزانے میں واپس جمع کرانے کی خواہش ظاہر کی۔ عدالت نے نیب کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی پلی بارگین کی درخواست منظور کر لی۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ چار ارب روپے کی ریکوری مجموعی اسکینڈل کا صرف ایک حصہ ہے، جبکہ مزید بھاری رقوم اور اثاثوں کی ریکوری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
ادارے کے مطابق اب تک اس اسکینڈل میں ملوث 36 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ تقریباً 30 ارب روپے مالیت کے اثاثے سیل اور متعدد بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جا چکے ہیں۔
نیب حکام نے واضح کیا ہے کہ کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں کسی بھی ملزم کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ مزید پلی بارگین کی درخواستیں بھی زیر غور ہیں، جن پر فیصلہ شواہد اور قانون کے مطابق کیا جائے گا۔
کوہستان کرپشن اسکینڈل کو حالیہ برسوں کے بڑے مالی اسکینڈلز میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے نہ صرف حکومتی اداروں بلکہ عوامی حلقوں میں بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
