دنیا کے بیشتر ممالک اس وقت سرد موسم کی لپیٹ میں ہیں، تاہم آسٹریلیا شدید گرمی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے، جہاں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔
آسٹریلوی ریاست وکٹوریہ میں گزشتہ روز گرمی نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور درجہ حرارت 48 اعشاریہ 9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو حالیہ برسوں کے گرم ترین دنوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق نہ صرف وکٹوریہ بلکہ نیو ساوتھ ویلز، کوئنز لینڈ، تسمانیہ اور دیگر ریاستوں میں بھی شدید ہیٹ ویو کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے، جو کم از کم کل تک برقرار رہے گی۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز، زیادہ پانی پینے اور دھوپ میں کام نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
شدید گرمی کے اثرات کھیلوں کی سرگرمیوں پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ میلبرن میں درجہ حرارت 37 اعشاریہ 8 ڈگری تک پہنچنے کے بعد آسٹریلین اوپن کے میچز کے دوران ٹینس ارینا کی چھتیں بند کر دی گئیں تاکہ کھلاڑیوں اور شائقین کو شدید گرمی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ ٹینس کورٹس کے باہر کھلاڑیوں کی پریکٹس اور دیگر کھیلوں کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب شدید گرمی کے باعث آسٹریلیا کے جنوب مشرقی علاقوں میں جنگلات میں آگ لگنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ متعلقہ حکام نے فائر ڈینجر وارننگز جاری کر دی ہیں اور فائر بریگیڈ سمیت ہنگامی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ماضی میں آسٹریلیا کو شدید جنگلاتی آگ کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث جانی و مالی نقصان بھی ہو چکا ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ شدید گرمی موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جس کے باعث آسٹریلیا میں ہیٹ ویوز کا دورانیہ اور شدت دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری انتباہات پر عمل کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
شدید گرمی کی اس لہر نے ایک بار پھر ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے، جس کے اثرات دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف انداز سے سامنے آ رہے ہیں۔
