سال 2026 کے آسکر نامزدگیوں کا اعلان ہو چکا ہے، اور اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نامزدگیاں اصل میں کس طرح منتخب کی جاتی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، یہ عمل اکیڈمی آف موشن پکچرز آرٹس اینڈ سائنسز (Academy of Motion Picture Arts and Sciences) کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے فلموں اور متعلقہ افراد کے نام جمع کرانے کی آخری تاریخ مقرر کی جاتی ہے۔
اس کے بعد ووٹنگ کا مرحلہ شروع ہوتا ہے، جو دو مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلا مرحلہ عام طور پر دسمبر میں ہوتا ہے، جس میں اکیڈمی کے اراکین ووٹ دے کر تمام کیٹیگریز میں شارٹ لسٹ تیار کرتے ہیں۔
غزہ کی پانچ سالہ ہند رجب کی کہانی آسکر 2026 کے لیے نامزد
چند ہفتوں بعد یہ شارٹ لسٹ دوبارہ ووٹنگ کے مرحلے میں جاتی ہے، اس بار باضابطہ نامزدگی کے لیے ووٹنگ ہوتی ہے۔ ووٹنگ کا دورانیہ چار دن پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ حتمی فہرست کا اعلان ایک لائیو ایونٹ میں کیا جاتا ہے۔
آسکر میں ووٹر کون ہوتے ہیں؟
آسکر ووٹرز اکیڈمی آف موشن پکچرز آرٹس اینڈ سائنسز کے اراکین ہوتے ہیں، جن کے 20 مختلف شعبے ہیں۔ ان میں اداکار، ہدایتکار، لکھاری، پروڈیوسر، ایڈیٹرز اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوتے ہیں۔
اکیڈمی کے اراکین ہر کیٹیگری میں ووٹ دینے کے مجاز نہیں ہوتے، بلکہ وہ صرف اسی شعبے میں ووٹ دے سکتے ہیں جس سے ان کا تعلق ہوتا ہے۔ تاہم، وہ اضافی طور پر درج ذیل کیٹیگریز میں بھی ووٹ دے سکتے ہیں:
۔ بہترین فلم (Best Picture)
۔ بہترین اینیمیٹڈ شارٹ فلم (Best Animated Short Film)
۔ بہترین بین الاقوامی فلم (Best International Feature Film)
البتہ، جب فاتح کے انتخاب کا مرحلہ آتا ہے تو یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی، اور اس مرحلے میں اکیڈمی کا ہر رکن کسی بھی کیٹیگری میں ووٹ دے سکتا ہے۔
کیا آسکر ووٹرز کو ووٹ دینے سے پہلے تمام فلمیں دیکھنا ضروری ہوتا ہے؟
ایلون مسک کی واٹس ایپ پر سخت تنقید، صارفین کی پرائیویسی کو خطرہ
یہ لازمی نہیں کہ ووٹرز نے تمام فلمیں دیکھی ہوں۔ تاہم، کچھ مخصوص کیٹیگریز جیسے بہترین اینیمیٹڈ شارٹ فلم، بہترین بین الاقوامی فلم اور بہترین لائیو ایکشن شارٹ فلم میں، نامزدگی کے دوسرے مرحلے کے دوران ووٹرز کے لیے شارٹ لسٹ کی تمام فلمیں دیکھنا لازمی ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ 98ویں آسکر ایوارڈز کی تقریب 15 مارچ 2026 کو منعقد کی جائے گی۔
