امریکی ٹیکنالوجی کے سی ای او ایلون مسک نے مارک زکربرگ کی کمپنی میٹا کی ملکیت معروف میسجنگ ایپ واٹس ایپ کو صارفین کے لیے غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے ایک بڑے پرائیویسی تنازع کو جنم دیا ہے۔
مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ شئیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ واٹس ایپ محفوظ نہیں ہے، حتیٰ کہ سگنل بھی مشکوک ہے، اور صارفین کو ایکس چیٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔
ناسا کی نئی حیران کن تصاویر: سولر سسٹم کا ممکنہ اختتام قریب؟
WhatsApp is not secure. Even Signal is questionable.
Use 𝕏 Chat. https://t.co/MWXCOmkbTD
— Elon Musk (@elonmusk) January 27, 2026
ان کے اس بیان کا تعلق ایک بین الاقوامی مدعی گروپ کے ذریعہ میٹا کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے سے ہے، جس میں واٹس ایپ کی پرائیویسی اور سیکیورٹی پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی صارفین کی نجی گفتگو تک رسائی رکھتی ہے اور ذاتی معلومات کو ذخیرہ، تجزیہ اور استعمال کرتی ہے۔
واٹس ایپ کے خلاف دائر اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ میٹا اور واٹس ایپ صارفین کی مبینہ طور پر نجی مواصلات تک رسائی حاصل کرتے ہیں، جو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے دعووں کے برعکس ہے۔
میٹا کے ترجمان نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ واٹس ایپ کے لوگوں کے پیغامات اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ نہ ہونے کے دعوے بالکل غلط اور بے بنیاد ہیں۔ واٹس ایپ نے ایک دہائی سے سگنل پروٹوکول کے ذریعے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم کی ہے، اور یہ مقدمہ غیر معقول اور حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔
ناسا کی نئی حیران کن تصاویر: سولر سسٹم کا ممکنہ اختتام قریب؟
مقدمے اور ایلون مسک کے تبصرے نے واٹس ایپ کی پرائیویسی اور سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور صارفین میں بحث کو فروغ دیا ہے کہ آیا واقعی اس پلیٹ فارم پر نجی ابلاغ حقیقی معنوں میں محفوظ ہے یا نہیں۔
