لاہور ہائیکورٹ نے معروف گلوکار علی ظفر کی جانب سے اداکارہ و گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر ہتک عزت کے مقدمے میں اہم حکم جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ 30 دن کے اندر فیصلہ سنائے۔
تفصیلات کے مطابق، عدالت نے میشا شفیع کی درخواست مسترد کر دی، جس میں وہ ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کر رہی تھیں کہ مقدمے کے فیصلے تک وہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر علی ظفر کے خلاف بیانات دینے سے باز رہیں۔
بھارتیوں کے غیر قانونی امیگریشن کا بڑھتا رجحان عالمی سیکیورٹی کیلئے چیلنج بن گیا
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں کہا کہ ٹرائل کورٹ کے بیانات پر عائد پابندی کا حکم قانونی اور درست ہے اور اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر مقدمہ زیرِ سماعت ہے تو عوامی بیانات متاثرہ فریق کے وقار اور عدالتی عمل پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں اور اس سے “میڈیا ٹرائل” جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ اظہارِ رائے ایک بنیادی حق ہے، لیکن یہ حق لامحدود نہیں اور عدلیہ انصاف اور منصفانہ سماعت کے تحفظ کے لیے مناسب پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔
اقرا عزیز نے نومولود بیٹی کا نام بتا دیا
خیال رہے کہ علی ظفر نے 2018 میں میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ میشا شفیع نے ان پر جنسی ہراسانی کے غلط اور بے بنیاد الزامات عائد کیے، جس سے ان کی شہرت اور کاروبار کو نقصان پہنچا۔ علی ظفر نے عدالت سے 1 ارب روپے کے ہرجانے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
