دنیا کی بڑی ٹیک کمپنی میٹا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز انسٹاگرام، فیس بک اور واٹس ایپ کے لئے پریمیم سبسکرپشن ماڈل متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔
میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایپس کے بنیادی فیچرز کو مفت رکھے گا، لیکن پریمیم سبسکرپشنز کے ذریعے صارفین کو اضافی خصوصیات، بہتر کنٹرولز اور اے آئی کی طاقت تک رسائی فراہم کرے گا۔ ان منصوبوں میں ہر ایپ کے لیے الگ سبسکرپشن کے آپشنز شامل ہیں جو لوگوں کے استعمال کے طریقے کے مطابق ہوں گے۔
نادرا نے پاکستان کے پہلے بَگ باؤنٹی چیلنج کا آغاز کر دیا
رپورٹس کے مطابق انسٹاگرام کے ادا شدہ ورژن میں کچھ فیچرز شامل ہو سکتے ہیں جیسے لامحدود آڈینس لسٹس، غیر ملنے والے فالوورز کی رسائی، گمنام اسٹوری ویوئنگ اور زیادہ کنٹرول آپشنز، جو عام طور پر پاور صارفین تیسرے فریق کے اوزاروں کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔
میٹا واٹس ایپ اور فیس بک کے لیے بھی پریمیم ٹولز کو آزمانے کا سوچ رہا ہے، جن میں اطلاعاتی پرائیویسی ٹولز، بہتر میسج آرگنائزیشن، اے آئی سپورٹڈ جوابات اور بزنس فیچرز جیسی سہولیات شامل ہو سکتی ہیں۔
مزید براں، کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا دی ہے، جس میں اے آئی ایجنٹ کی خریداری بھی شامل ہے، اور اسی ٹیکنالوجی کو سبسکرپشن میں اضافی فیچرز کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
میٹا کا کہنا ہے کہ یہ نئے ادا شدہ منصوبے عام صارف، پاور صارف اور چھوٹے کاروباروں کو بہتر تجربات فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، خاص طور پر EU (یورپی یونین) جیسے علاقوں میں جہاں ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ اور پرائیویسی قوانین اشتہار پر مبنی ماڈل کو محدود کر رہے ہیں۔
پہاڑوں کی طرف چلتے پینگوئن کی ویڈیو کیوں وائرل ہو رہی ہے؟
کمپنی نے بتایا ہے کہ سبسکرپشن ٹیسٹنگ آہستہ آہستہ مختلف مارکیٹس میں شروع کی جائے گی، صارفین کی رائے کے مطابق فیچرز کو بہتر بنایا جائے گا، لیکن قیمتوں اور سرکاری لانچ کی تاریخ ابھی تک واضح نہیں کی گئی۔
