کرکٹ اسکاٹ لینڈ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اسکاٹ لینڈ کے کھلاڑیوں کو بروقت بھارتی ویزے دلوانے کے لیے “انتہائی سنجیدگی سے کام” کر رہی ہے، جن میں پاکستانی نژاد فاسٹ بولر صفیان شریف بھی شامل ہیں۔
اسکاٹ لینڈ کو بنگلادیش کی آخری وقت میں ورلڈ کپ سے دستبرداری کے بعد میگا ایونٹ میں شامل کیا گیا، جہاں وہ سب سے زیادہ رینکنگ رکھنے والی وہ ٹیم تھی جو پہلے کوالیفائی نہیں کر سکی تھی۔ اس کے بعد پیر کے روز اسکاٹ لینڈ نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا، جو رواں ہفتے بھارت روانہ ہونے والا ہے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی اور سفارتی کشیدگی کے باعث حالیہ برسوں میں پاکستانی شہریوں یا پاکستانی نژاد افراد کو بھارتی ویزے کے حصول میں مشکلات اور تاخیر کا سامنا رہا ہے، جن میں متعدد بین الاقوامی کرکٹرز بھی شامل ہیں۔
تاہم کرکٹ اسکاٹ لینڈ کو یقین ہے کہ صفیان شریف کو بروقت ویزا مل جائے گا۔ صفیان شریف ہڈرزفیلڈ میں پاکستانی والد اور برطانوی نژاد پاکستانی والدہ کے ہاں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں اسکاٹ لینڈ منتقل ہو گئے تھے۔
کرکٹ اسکاٹ لینڈ کی چیف ایگزیکٹونے کہا کہ آئی سی سی کے ساتھ مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویزا کا معاملہ ہمیشہ غیر یقینی ہوتا ہے، چاہے وقت کم ہو یا زیادہ، تاہم گزشتہ 48 گھنٹوں سے تمام تر توجہ کھلاڑیوں کے ویزے مکمل کروانے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھلاڑی ویزا درخواستوں کے عمل میں ہیں اور ٹیم جلد بھارت میں موجود ہو گی۔ ان کے مطابق آئی سی سی ان معاملات میں مکمل تعاون کر رہی ہے جو اس کے دائرہ اختیار میں ہیں اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) اور مقامی حکام کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔
انہوںنے مزید کہا کہ آئی سی سی صرف اسکاٹ لینڈ ہی نہیں بلکہ ورلڈ کپ میں شریک دیگر 19 ٹیموں کی بھی مدد کر رہی ہے، تاہم اس وقت اسکاٹ لینڈ ان کی اولین ترجیح ہے۔
دوسری جانب اسکاٹ لینڈ نے دو ٹریولنگ ریزرو اور تین نان ٹریولنگ ریزرو کھلاڑیوں کے لیے بھی ویزوں کی درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تاخیر کی صورت میں ٹیم دستیاب رہے۔
ٹیم کے ہیڈ آف پرفارمنس اسٹیو اسنیل نے آئی سی سی کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے بھی تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکاٹ لینڈ کو ورلڈ کپ کے لیے مدعو کرنے کے بعد اگر ٹیم کو ملک میں داخلے میں مشکل پیش آئے تو یہ کسی کے لیے بھی اچھی صورتحال نہیں ہو گی۔
اسکاٹ لینڈ کی ٹیم 2 اور 4 فروری کو بنگلور میں افغانستان اور نمیبیا کے خلاف وارم اپ میچز کھیلے گی، جبکہ 7 فروری کو کولکتہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے ورلڈ کپ مہم کا آغاز کرے گی۔ گروپ بی میں اسکاٹ لینڈ کے دیگر میچز اٹلی، انگلینڈ اور نیپال کے خلاف ہوں گے، جہاں ٹاپ دو ٹیمیں سپر 8 مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
کرکٹ اسکاٹ لینڈ کے مطابق اسکواڈ کی حتمی شرکت تمام کھلاڑیوں اور آفیشلز کے ویزوں کی منظوری سے مشروط ہے، محدود وقت کے باعث اضافی ریزرو کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔
