بالی ووڈ کے معروف سینئر اداکار اور بھارتی سیاستدان پرکاش راج نے بھارتی فلم انڈسٹری پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا ہندی سنیما اپنی اصل پہچان اور سماجی جڑوں سے کٹ چکا ہے اور اب سب کچھ مصنوعی اور دکھاوے پر مبنی محسوس ہوتا ہے۔
پرکاش راج نے کیرالا لٹریچر فیسٹیول کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں بالی ووڈ میں کہانی، سچائی اور زمینی حقیقت کم ہوتی جا رہی ہے، جبکہ اس کے برعکس ملیالم اور تامل فلم انڈسٹریاں اس وقت معیاری اور بامقصد سنیما پیش کر رہی ہیں۔
ٹک ٹاکر علینہ عامر نے اے آئی ڈیپ فیک ویڈیو کے حوالے سے خاموشی توڑی
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ مین اسٹریم ہندی فلمیں بتدریج صرف کاروبار اور منافع تک محدود ہو گئی ہیں، جس کے باعث ان میں فطری پن اور حقیقت پسندی ختم ہوتی جا رہی ہے۔
پرکاش راج کا کہنا تھا کہ اس وقت اگر کسی جگہ سنیما کے حوالے سے امید نظر آتی ہے تو وہ جنوبی بھارت کی فلم انڈسٹری ہے، جہاں تامل اور ملیالم فلم ساز اب بھی مضبوط کہانیوں پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر تامل سنیما کے نوجوان ہدایت کاروں کی تعریف کی جو دلت کمیونٹی اور سماجی مسائل جیسے موضوعات کو جرات کے ساتھ اجاگر کر رہے ہیں، جو ایک مثبت رجحان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بالی ووڈ نے ایک طویل عرصے تک صرف ملٹی پلیکس ناظرین کو مدنظر رکھ کر فلمیں بنائیں، جو بظاہر خوبصورت اور ہلکی پھلکی تو تھیں، مگر ان میں زمینی حقیقت کی کمی تھی۔ بعد ازاں انڈسٹری پیج تھری کلچر اور دکھاوے کی دنیا میں اس قدر الجھ گئی کہ اس کا دیہی علاقوں، خصوصاً راجستھان اور بہار جیسے خطوں سے رابطہ ختم ہو گیا۔
عروسہ خان شوہر اقرار الحسن کے دولت کی نمائش کرنے پر تنقید کا شکار
پرکاش راج کے مطابق آج ہندی فلم انڈسٹری میں توجہ فلم بینوں کے بجائے پیسے، سوشل میڈیا ریلز، پیج تھری کوریج اور شور شرابے پر مبنی تشہیر پر مرکوز ہے، جس کے باعث سنیما اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔
