اسٹیٹ بینک آف پاکستان آج نئے سال کی پہلی مانیٹری پالیسی جاری کرے گا، جس میں بنیادی شرح سود کے سنگل ڈیجٹ میں آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس اسٹیٹ بینک کے ہیڈ آفس کراچی میں منعقد ہوگا۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس کے دوران معاشی اشاریوں، مہنگائی کی صورتحال اور دیگر اہم اقتصادی عوامل کا تفصیلی جائزہ لے کر بنیادی شرح سود کا تعین کرے گی۔ مانیٹری پالیسی کا باضابطہ اعلان گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد پریس کانفرنس کے ذریعے کریں گے۔
یاد رہے کہ 2025 کی آخری مانیٹری پالیسی میں اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرح سود میں نصف فیصد کمی کی تھی، جس کے بعد پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔
معاشی ماہرین کے مطابق حالیہ ٹریژری بلز کی نیلامی میں شرح سود میں مزید کمی کے واضح اشارے ملے ہیں۔ چار سال بعد پہلی مرتبہ بینکوں سے حاصل کیے جانے والے حکومتی قرض پر شرح سود سنگل ڈیجیٹ سطح پر آچکی ہے۔
مانیٹری پالیسی کا اعلان، بنیادی شرح سود 11 سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گئی
سروے رپورٹس کے مطابق ٹریژری بلز پر شرح سود سنگل ڈیجیٹ میں آنے کے باعث بنیادی شرح سود میں مزید کمی کا امکان مضبوط ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام، مہنگائی پر قابو اور ترسیلات زر میں اضافے کے پیش نظر اسٹیٹ بینک بنیادی شرح سود میں آدھے سے ایک فیصد تک کمی کر سکتا ہے۔
