سردیوں کے دوران دنیا کے متعدد شہروں میں ہوا کی کوالٹی اکثر صحت کے لیے خطرناک حد سے تجاوز کر جاتی ہے، جس سے شہریوں کو سانس لینے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ڈھاکہ، بنگلہ دیش دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں کی فہرست میں سرِ فہرست ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 299 ریکارڈ کی گئی، جو خطرناک سطح Hazardous (انتہائی خطرناک) سے صرف ایک قدم نیچے یعنی “پرہول” زمرے میں آتی ہے۔
ناسا کا نیا منصوبہ: چاند کے سفر میں عام افراد کی شمولیت، طریقہ کار جانیں
اس کے بعد دوسرے نمبر پر نئی دہلی، بھارت ایئر کوالٹی انڈیکس 264 کے ساتھ، لاہور، پاکستان ایئر کوالٹی انڈیکس 228 کے ساتھ، اور کولکاتا، بھارت ایئر کوالٹی انڈیکس 225 کے ساتھ فہرست میں شامل ہیں، جو سب بہت غیر صحت مند زمرے میں آتے ہیں۔
Here are the world’s most polluted major cities right now (January 21). Curious where your community stands? Tap the link to check and tell us in the comments. #airquality #airpollutionhttps://t.co/FDLzYAUpsx pic.twitter.com/P3JvMlRd9O
— IQAir (@IQAir) January 21, 2026
اسی فہرست میں بشکیک، کرغزستان (213)، سراۓوو، بوسنیا و ہرزیگووینا (201)، کراکو، پولینڈ (195)، میڈان، انڈونیشیا (194)، وارسا، پولینڈ (180)، اور کابل، افغانستان (175) بھی شامل ہیں، جو زیادہ تر غیر صحتمند یا بہت غیر صحتمند زونز میں آتے ہیں۔

یہ بلند سطح کی آلودگی مختلف عوامل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، جن میں گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی آلودگی، اینٹ بھٹیوں سے نکلنے والا دھواں، حیاتیاتی فضلہ جلانا، تعمیراتی مٹی اور موسمی اثرات شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ آلودگی سانس کے امراض، دل کی بیماریوں، اور شہریوں کی متوقع عمر میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، دنیا کے ہزاروں مانیٹرنگ اسٹیشنز کے ڈیٹا کی بنیاد پر صرف تقریباً 17 فیصد شہر عالمی ادارہ صحت (WHO) کی سالانہ PM2.5 رہنما اصولوں کے مطابق ہیں۔ جنوبی ایشیا اور افریقہ کے ممالک میں سالانہ ذرات کی مقدار (PM2.5) WHO کی سفارش کردہ حد 5 µg/m³ سے کم از کم دس گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
فالج کے مریضوں کیلئے اہم پیشرفت، جدید ڈیوائس سے بات چیت ممکن
رپورٹ اور حقیقی وقت کی مانیٹرنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں خطرناک فضائی آلودگی اب بھی جاری ہے۔ اگرچہ کچھ شہروں میں معمولی بہتری آئی ہے، زیادہ تر شہری اب بھی ایسی ہوا میں سانس لے رہے ہیں جو مختصر اور طویل مدت میں صحت کے لیے شدید خطرناک ہے۔
واضح رہے کہ یہ رپورٹ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کے شہروں میں فضائی آلودگی کے مستقل چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے اور آلودگی کم کرنے، صاف توانائی کے اقدامات، اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔
