نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے عوام کے لیے ایک اہم آگاہی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل شہریوں کے لیے سنگین قانونی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
ایجنسی کے مطابق کسی بھی خبر، پوسٹ یا لنک کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ بغیر تحقیق مواد کو پھیلانا قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
این سی سی آئی اے نے واضح کیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور ریاستی اداروں کے خلاف غیر مصدقہ معلومات یا جھوٹی خبریں پھیلانا قابلِ تعزیر جرم ہے۔
این سی سی آئی اے کے چار افسران کے استعفے منظور، نوٹیفکیشن جاری
ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ کے سیکشن 26 اے کے تحت جھوٹی خبریں پھیلانے پر تین سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
این سی سی آئی اے نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ نفرت انگیز مواد اور فیک نیوز سے اجتناب کریں اور سوشل میڈیا کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں۔ ایجنسی کے مطابق باخبر اور ذمہ دار رویہ ہی ڈیجیٹل دنیا کو محفوظ بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
