امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مستقبل میں یہ ممکن ہے کہ “بورڈ آف پیس” اقوامِ متحدہ کی جگہ لے لے، تاہم فی الحال وہ چاہتے ہیں کہ عالمی ادارہ اپنا کام جاری رکھے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی صلاحیتوں کے سب سے بڑے حامی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کبھی بھی اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر سکی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگرچہ اقوامِ متحدہ کے پاس دنیا میں امن کے قیام کی بڑی گنجائش موجود ہے، تاہم عملی طور پر ادارہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
دوسری طرف متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔
اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ صدر ٹرمپ کے غزہ کے لیے 20 نکاتی امن منصوبے کے مکمل نفاذ کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے نہایت اہم ہے۔
سعودی کابینہ نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی حمایت کر دی
خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ بورڈ کے چارٹر کے مطابق رکن ممالک کی مدتِ رکنیت زیادہ سے زیادہ 3 سال ہو گی، جس کی تجدید چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہو گی۔
واضح رہے امریکا مختلف عالمی رہنماؤں سے ٹرمپ کی سربراہی میں قائم اس بورڈ کا حصہ بننے کا مطالبہ کر رہا ہے، جس کی رکنیت کیلئے ایک ارب ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے۔
