وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان سے لوگوں کو لا کر بسانا ایک سنگین غلطی تھی، جبکہ سوات سے سینکڑوں دہشت گردوں کی رہائی بھی ایک بڑی کوتاہی ثابت ہوئی۔
قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ خطے میں پرامن طور پر رہنا چاہتا ہے یا نہیں، کیونکہ دشمنوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وزیراعظم نے کہا کہ خارجیوں کے مکمل خاتمے تک پوری قوم چین سے نہیں بیٹھے گی اور قومی سلامتی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو ہونی چاہیے تھی، جبکہ اگر صرف پنجاب ترقی کرے اور دیگر صوبے پیچھے رہ جائیں تو اسے پاکستان کی مجموعی ترقی نہیں کہا جا سکتا۔
وزیراعظم نے بھارت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مئی میں پاکستان نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔
صدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس میں وزیراعظم شہباز شریف کو شمولیت کی دعوت دیدی
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی، جس کے جواب میں پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے مؤثر کارروائی کی اور دشمن کے سات جہاز مار گرائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی ہے، تاہم ملکی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
