کراچی کے تاریخی گل پلازہ میں پیش آنے والی آتشزدگی نے نہ صرف شہرِ قائد بلکہ پورے ملک کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا۔ ہفتے کے اختتام پر جب آگ کی لپیٹ میں آئی عمارت کی دل دہلا دینے والی تصاویر سوشل میڈیا اور ٹی وی اسکرینز پر دکھائی گئیں تو ہر طرف افسوس، حیرت اور بے یقینی کی فضا قائم ہو گئی۔
سانحے کے بعد شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی متاثرین کے غم میں شریک ہوتے ہوئے تعزیتی پیغامات جاری کیے۔ اداکارہ منال خان، ہانیہ عامر، سجل علی، یشمہ گل، ایمن خان اور گلوکار سمر جعفری نے انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

ماہرہ خان برقع پہنے گی تو ڈانس کیسے کرے گی؟ جواد احمد تنقید کی زد میں

اداکارہ ہانیہ عامر نے اپنی انسٹاگرام سٹوری میں لکھا کہ یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ اجتماعی غفلت اور حفاظتی انتظامات کی ناکامی کا نتیجہ ہے، جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ صرف تعزیت کافی نہیں بلکہ جوابدہی بھی ضروری ہے، اور دعا کی کہ سوگوار خاندانوں کو اس ناقابلِ بیان نقصان کو سہنے کی طاقت ملے۔

اداکارہ صبور علی نے گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے اللہ سے رحم کی دعا کی، جبکہ یشمہ گل نے عمارت میں حفاظتی انتظامات کی کمی اور فائر سیفٹی کے فقدان پر تشویش ظاہر کی۔ فلم ساز عدنان ملک نے بتایا کہ وہ ایک ماہ قبل گل پلازہ گئے تھے اور اس وقت بھی عمارت کا ڈیزائن انہیں انتہائی گھٹن زدہ محسوس ہوا تھا۔

ریپر ایوا بی اور اداکارہ منال خان نے گل پلازہ سے وابستہ اپنی یادوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ منال خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی، جو ملک کا اقتصادی مرکز اور صوبائی دارالحکومت ہے، ایک ایسے “یتیم شہر” کی مانند ہے جسے نہ صوبہ مکمل طور پر اپنانا چاہتا ہے اور نہ مرکز۔
سانحہ گل پلازہ، آتشزدگی کے باوجود قرآن پاک محفوظ رہے
ٹی وی میزبان انوشے اشرف نے لاہور میں جنید صفدر کی پرتعیش شادی کی تقریبات اور اسی دوران کراچی کے عوام کو درپیش مشکلات کے درمیان واضح تضاد کی نشاندہی کی، اور کہا کہ اقتدار کے ایوانوں میں جشن منایا جا رہا ہے جبکہ عوامی نظام مسلسل زوال کا شکار ہے۔
ریسکیو اہلکار 40 گھنٹوں بعد گل پلازہ کی عمارت میں داخل ہوئے، پہلی منزل پر لاشوں کی تلاشی مکمل کر لی گئی، اور اب دوسری منزل پر زندہ یا مردہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سانحہ فائر سیفٹی قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہونا چاہیے، تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد اس حوالے سے عملی اقدامات کس حد تک کیے جائیں گے۔
