اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کسانوں، زرعی اداروں، اساتذہ اور ماہرین پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی معیشت ہے۔ اور ملک کی 65 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ جبکہ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی کاروباری شخصیات کے درمیان بی ٹو بی اور جی ٹو جی ایم او یوز پر دستخط ہو چکے ہیں۔ اور ان ایم او یوز کو عملی معاہدوں میں تبدیل کرنے کے لیے مثبت پیشرفت جاری ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کبھی بھی بغیر محنت کے کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو چین کے تحقیقی مراکز میں تربیت کے لیے بھیجا گیا۔ تاکہ جدید ٹیکنالوجی اور طریقوں کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔ جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کسانوں، زرعی اداروں، اساتذہ اور ماہرین پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ زیادہ پیداوار اور اعلیٰ معیار کے ذریعے تجارتی سرپلس حاصل کیا جائے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے 10 فیصد پر آ چکا ہے۔ جو معیشت کے لیے ایک مثبت پیشرفت ہے۔
انہوں نے سی پیک کو گیم چینجر منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب سی پیک فیز ٹو کے منتظر ہیں۔ وزیراعظم نے اس امید کا اظہار بھی کیا۔ کہ چین کے صدر پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی سالگرہ کی تقریبات میں پاکستان کے مہمان ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا سانحہ گل پلاز ہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی خاندان ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوانوں کو پاکستان کا مستقبل اور روشن کل کی امید قرار دیتے ہوئے۔ کہا کہ محنت اور خلوص کے ساتھ پاکستان کو عظیم بنائیں گے۔
