اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف سے سیاسی درجہ حرارت کو نیچے لانے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کر دی۔
سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔ تاہم اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کے لیے نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرداری کو مذاکرات کرنا ہوں گے۔ جبکہ کوٹ لکھپت جیل کے قیدیوں کی رہائی ایک مثبت تاثر پیدا کرے گی۔
پی ٹی آئی کی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ پارٹی میں دو متضاد رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک حصہ انقلاب چاہتا ہے اور دوسرا مذاکرات کا خواہاں ہے۔ پارٹی کے اندر بھی بیانات میں تضاد موجود ہے۔ بیرسٹر گوہر کچھ کہتے ہیں تو خیبر پختونخوا کے جونیئر وزیر کچھ اور رائے رکھتے ہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ سلمان اکرم راجا کہتے ہیں کہ افغانستان سے دہشتگردی کا خطرہ ہے۔ اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اس بیان سے متفق نہیں ہیں، جو پارٹی میں رائے کے اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم نے اپنی سیاست نہیں بلکہ ریاست بچائی، طلال چودھری
واضح رہے کہ فواد چوہدری، عمران اسماعیل اور محمود مولوی ملک میں گرینڈ ڈائیلاگ کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ لیکن پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو تحریک انصاف سے نکالا جا چکا ہے اس لیے ان کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں۔
