امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے، تاہم نئے مذاکرات کے باوجود کسی بڑی پیش رفت کی تصدیق نہیں ہو سکی، خاص طور پر متنازع علاقائی معاملات پر۔
ٹرمپ کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ فروری 2022 سے جاری جنگ، جس میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ختم کرنا ممکن ہے یا نہیں۔
نئے سال سے قبل سفارتی سرگرمیوں کے سلسلے میں یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے فلوریڈا کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹرمپ سے ان کی رہائش گاہ مارالاگو میں ظہرانے کے دوران ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب روس نے ایک روز قبل کیف کے رہائشی علاقوں پر تازہ حملے کیے تھے۔
ٹرمپ نے بتایا کہ زیلنسکی سے ملاقات سے کچھ دیر قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی ان کی ٹیلی فون پر بات ہوئی، اور ان کے بقول ماسکو امن کے معاملے میں سنجیدہ ہے، اگرچہ زمینی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
مارالاگو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے زیلنسکی کی موجودگی میں کہا، ’’میرا واقعی ماننا ہے کہ ہم دونوں فریقین کے ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہر کوئی اس جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔‘‘
ملاقات کے بعد ٹرمپ اور زیلنسکی نے یورپی رہنماؤں کے ساتھ بھی مشترکہ ٹیلی فونک گفتگو کی، جو کسی بھی ایسے فیصلے پر شدید تحفظات رکھتے ہیں جو روس کو مزید فائدہ پہنچا سکتا ہو۔
