پاکستان نے سری لنکا کے خلاف آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں تجربہ کار بولنگ آل راؤنڈر شاداب خان کی واپسی نے توجہ حاصل کر لی، تاہم چند ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی ٹیم میں جگہ بنانے میں ناکام رہے۔
شاداب خان کو کندھے کی سرجری کے بعد ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ لیگ اسپنر اس وقت آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جسے سلیکٹرز نے ان کی واپسی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔
اسکواڈ میں ایک اور نمایاں اضافہ وکٹ کیپر بلے باز خواجہ نافع کا ہے، جنہیں پہلی بار ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ سیریز میں قومی ٹیم کی قیادت سلمان علی آغا کریں گے۔
تاہم شاداب خان کی واپسی پر سابق کپتان راشد لطیف نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شاداب خان کو تو شامل کر لیا گیا، مگر ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے سفیان مقیم اور معاذ صداقت کو نظر انداز کر دیا گیا۔
راشد لطیف کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ میں مستقل کارکردگی دکھانے والے نوجوانوں کو مواقع نہ دینا سلیکشن پالیسی پر سوالیہ نشان ہے۔
