سندھ کے شہر حیدرآباد میں شہری انتظامیہ کی غفلت ایک بار پھر ایک معصوم جان لے گئی، جہاں کھلے نالے میں گر کر 5 سالہ بچی جاں بحق ہو گئی۔
افسوسناک واقعہ بائی پاس ٹاؤن ہالا ناکہ کے علاقے میں پیش آیا، جس سے علاقے میں خوف و غم کی فضا پھیل گئی۔
پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق 5 سالہ مریم کھیلتے ہوئے گھر کے قریب کھلے نالے میں گر گئی۔ اہلِ علاقہ نے بچی کو نالے میں گرنے کے بعد فوری طور پر نکال کر سول ہسپتال حیدرآباد منتقل کیا، تاہم ڈاکٹروں نے طبی معائنے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کر دی۔ واقعے کے بعد لواحقین غم سے نڈھال ہو گئے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بائی پاس ٹاؤن اور ملحقہ علاقوں میں متعدد نالے طویل عرصے سے کھلے پڑے ہیں، جن پر نہ تو حفاظتی جالیاں نصب ہیں اور نہ ہی مؤثر باڑ لگائی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بارہا متعلقہ اداروں کو شکایات کی گئیں، مگر تاحال کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔
گٹر ڈھکن چوروں کو گولی ماریں، یہ بچوں کے قاتل ہیں، خواجہ آصف
خیال رہے کہ رواں ماہ حیدرآباد میں بچوں کے کھلے نالوں اور پانی سے بھرے مقامات میں ڈوب کر جاں بحق ہونے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ چند روز قبل لطیف آباد کے علاقے مہر علی کالونی میں 3 سالہ بچی تالاب میں ڈوب کر جان کی بازی ہار گئی تھی، جس کے بعد بھی شہریوں کی جانب سے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
سماجی حلقوں اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں کھلے نالوں کو فوری طور پر ڈھانپا جائے اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہونے کے بعد بھی اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ سنگین غفلت کے مترادف ہوگا۔
