نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے نور خان ایئر بیس پر حملہ ایک سنگین اور بڑی غلطی ثابت ہوئی، جس کا بھرپور جواب دیا گیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ 22 اپریل کے بعد دفتر خارجہ غیر معمولی طور پر متحرک رہا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے نور خان ایئر بیس پر حملہ کیا اور ایف 16 طیارہ گرانے کا جھوٹا دعویٰ بھی کیا، تاہم پاکستان نے عالمی برادری کو واضح پیغام دیا کہ وہ کسی بھی مرحلے پر پہل نہیں کرے گا۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کی آڑ میں بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو نشانہ بنایا، جبکہ پلوامہ کے بہانے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پلوامہ کے بعد بھارت کے اقدامات پاکستان کے سامنے تھے، اور حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت نے 36 گھنٹوں میں 80 جنگی طیارے روانہ کیے جن میں سے 79 کو پاکستان نے مؤثر طور پر نیوٹرلائز کر دیا۔
بھارت کے جارحانہ آبی اقدامات خطے کے امن و استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہیں ، اسحاق ڈار
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ بھارتی طیارے گرنے کے بعد بھارت مسلسل غلط بیانی کرتا رہا، جبکہ پاکستان نے کسی سے بھی بھارت کے ساتھ صلح کرانے کی درخواست نہیں کی۔ ان کے مطابق چار روزہ جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی دعوؤں کو مکمل طور پر پاش پاش کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ جب پی ڈی ایم حکومت نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار تھا، تاہم چھ مئی سے قبل اور بعد میں 60 سے زائد عالمی رہنماؤں کی جانب سے رابطے کیے گئے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کی جانب سے میزائل داغنا ایک اور بڑی غلطی تھی، اگرچہ ایک ڈرون کے ذریعے فوجی تنصیبات کو معمولی نقصان پہنچا، مگر پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارت کے 79 ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2025 میں پاکستان کو عالمی سطح پر عزت و وقار حاصل ہوا ہے اور ملک اب سفارتی طور پر تنہا نہیں رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی ایک ارب ڈالر کی واجب الادا رقم سرمایہ کاری میں تبدیل ہونے جا رہی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کی فوجی فاؤنڈیشن میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
