چین نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے پر امریکا کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے 20 امریکی دفاعی کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن میں بوئنگ کا دفاعی یونٹ اور معروف دفاعی ادارہ نارتھروپ گرومن بھی شامل ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا کی جانب سے تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنا “ون چائنا پالیسی” کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ وزارت نے کہا کہ بیجنگ ایسے اقدامات کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔
چین کی جانب سے جن کمپنیوں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں، ان کے ساتھ چینی اداروں کے کسی بھی قسم کے کاروباری روابط پر پابندی ہو گی جبکہ ان کمپنیوں کے چین میں موجود اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 10 امریکی دفاعی اداروں کے سینئر عہدیداروں پر بھی چین، ہانگ کانگ اور مکاؤ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ٹرمپ نے 901 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ پر خاموشی سے دستخط کر دیے
یاد رہے کہ امریکا طویل عرصے سے تائیوان کا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے، حالانکہ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اسے طاقت کے استعمال سے بھی واپس لینے کا امکان مسترد نہیں کرتا۔ رواں ماہ تائیوانی حکام نے بتایا تھا کہ واشنگٹن نے تقریباً 11 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی معاہدوں کی منظوری دی ہے، جو حالیہ برسوں میں سب سے بڑے اسلحہ پیکجز میں سے ایک ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگرچہ ان امریکی کمپنیوں کا چین میں کاروبار محدود ہے، تاہم پابندیوں کا مقصد امریکا کو سیاسی پیغام دینا اور تائیوان کے معاملے پر دباؤ بڑھانا ہے۔ اس سے قبل بھی چین متعدد امریکی دفاعی اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔
