کویت نے انرجی ڈرنکس کی فروخت اور استعمال کے حوالے سے سخت نئے قوانین نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت ریسٹورنٹس، تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر میں انرجی ڈرنکس پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ ان کی فروخت کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر کر دی گئی ہے۔
کویتی اخبار القبس کے مطابق وزیرِ صحت ڈاکٹر احمد عبدالوھاب العوضی نے انرجی ڈرنکس کی گردش کو منظم کرنے کے لیے ایک وزارتی فیصلہ جاری کیا ہے، جس میں عمر کی حد، یومیہ استعمال کی مقدار اور فروخت کے مقامات سے متعلق سخت شرائط شامل ہیں۔
نئے قواعد کے مطابق انرجی ڈرنکس صرف 18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو فروخت کی جا سکیں گی۔ ایک شخص کے لیے روزانہ زیادہ سے زیادہ دو کین استعمال کرنے کی اجازت ہو گی، جبکہ ایک کین میں کیفین کی مقدار 250 ملی لیٹر میں 80 ملی گرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
فیصلے کے تحت مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو پیکجنگ پر واضح صحت سے متعلق انتباہی پیغامات درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ انرجی ڈرنکس کی ہر قسم کی تشہیر، پروموشن اور اسپانسرشپ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، جن میں اسکول، کالجز اور جامعات شامل ہیں، میں انرجی ڈرنکس کی فروخت اور استعمال ممنوع ہو گا۔ اس کے علاوہ تمام سرکاری اداروں اور محکموں میں بھی ان ڈرنکس پر پابندی نافذ کر دی گئی ہے۔
نئے قوانین کے تحت ریسٹورنٹس، کیفے، کریانہ اسٹورز، فوڈ ٹرکس، وینڈنگ مشینز اور آن لائن ڈیلیوری پلیٹ فارمز کو بھی انرجی ڈرنکس فروخت یا فراہم کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
البتہ انرجی ڈرنکس کی فروخت صرف کوآپریٹو سوسائٹیز اور متوازی مارکیٹس میں، اور وہ بھی مخصوص مقامات تک محدود ہو گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد عوام، بالخصوص نوجوانوں کی صحت کا تحفظ اور کیفین کے مضر اثرات سے بچاؤ ہے۔
