اسمارٹ فونز نے 2025 میں ہارڈویئر کی سطح پر کوئی خاص بڑی تبدیلی نہیں دیکھی، مگر مصنوعی ذہانت نے انہیں حقیقی پیداواری آلات میں تبدیل کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سال اسمارٹ فونز صرف کیمرا یا کھیلوں کے آلات تک محدود نہیں رہے بلکہ روزمرہ کام اور ذاتی پیداواری صلاحیت کے لیے مرکزی کردار ادا کرنے لگے ہیں۔
پنجاب میں ڈرائیونگ لائسنس کے خواہشمند افراد کے لیے خوشخبری
گزشتہ کئی سالوں میں فونز کو بنیادی طور پر موبائل مددگار کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، لیکن حقیقی پیداواری خصوصیات اکثر کیمرا یا کھیلوں کی کارکردگی کے پیچھے رہ جاتی تھیں۔ تاہم 2025 میں یہ صورتحال بدل گئی۔ اب مصنوعی ذہانت کی مدد اور جدید ہارڈویئر کی بدولت اسمارٹ فونز روزمرہ کاموں میں زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
تیز کارکردگی والے چپس، بڑی بیٹری اور بہتر توانائی انتظام نے فونز کو دن بھر استعمال کے لیے قابل اعتماد بنایا، جبکہ بڑی سکرین نے ایک ساتھ کئی کام کرنے کو آسان بنایا۔ مگر سب سے بڑا فرق مصنوعی ذہانت میں آیا۔
ایپل کے نظام میں اپ ڈیٹس کے بعد یاد دہانی اور نوٹ لینے والی ایپ میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے کام خودکار انداز میں منظم کیے جا سکتے ہیں، جبکہ دیگر فونز میں مددگار پروگرام متعدد ایپس میں خودکار کام مکمل کر سکتے ہیں۔
پاکستانی شہریوں کے لیے خوشخبری: ویزا کے حصول میں بڑی آسانیاں
ماہرین کے مطابق اسمارٹ عینکیں مستقبل میں اسمارٹ فونز کی جگہ لے سکتی ہیں، لیکن فی الحال اسمارٹ فونز اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
2025 نے ثابت کیا ہے کہ اسمارٹ فونز نہ صرف زیادہ ذہین ہو گئے ہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے لیے ناگزیر بھی بن گئے ہیں۔
