ٹک ٹاک نے امریکی سرمایہ کاروں کے ایک گروپ کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے قیام کے لیے معاہدہ کر لیا ہے، جس سے امریکہ میں کام جاری رکھنے اور چینی ملکیت کے باعث ممکنہ پابندی سے بچنے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔
ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو شو چیو نے کہا کہ یہ معاہدہ کمپنی اور اس کی پیرنٹ فرم بائٹ ڈانس دونوں کی منظوری سے ہوا ہے، مجوزہ امریکی ادارے میں اوریکل، سلور لیک اور ابوظہبی کے کلیدی سرمایہ کار ہوں گے۔
ملک میں فائیو جی سروسز کا آغاز کب متوقع؟ چیئرمین پی ٹی اے نے خوشخبری سنا دی
شو چیو نے کہا کہ موجودہ بائٹ ڈانس سرمایہ کار نئی کمپنی میں تقریباً ایک تہائی حصہ رکھیں گے، جبکہ بائٹ ڈانس خود زیادہ سے زیادہ 20 فیصد حصے کی ملکیت رکھ سکے گی۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ اقدام سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں نافذ ہونے والے قانون کے مطابق ہے، جو بائٹ ڈانس کو ٹک ٹاک کی امریکی سرگرمیاں بیچنے یا پابندی کے خطرے کا سامنا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
امریکی قانون سازوں کی تشویش اس بات پر ہے کہ بیجنگ ٹک ٹاک کے ذریعے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتا ہے یا الگوردم کے ذریعے عوامی رائے پر اثر ڈال سکتا ہے۔
گیمنگ کے شوقین افراد کے لیے سب سے تیز اور بہترین فونز
شو چیو کے مطابق حتمی ہونے کے بعد امریکی مشترکہ منصوبہ خود مختار طور پر کام کرے گا، جس کے تحت امریکہ میں ڈیٹا سیکیورٹی، الگوردم حفاظتی اقدامات، مواد کی نگرانی اور سافٹ ویئر کی نگرانی کا کنٹرول برقرار رہے گا، جبکہ ٹک ٹاک گلوبل بین الاقوامی سرگرمیاں، بشمول اشتہارات، مارکیٹنگ اور ای کامرس، سنبھالتا رہے گا۔
