انسٹنٹ نوڈلز ایک ایسا آسان اور فوری غذائی حل ہیں جو دنیا بھر کے لوگوں کی روزمرہ زندگی میں مقبولیت حاصل کر چکا ہے، یہ نوڈلز چند منٹ میں تیار ہو جاتے ہیں اور سادہ، سستا اور لذیذ کھانے کا ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔
جاپان میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد شدید خوراک کی قلت نے عوام کو متاثر کیا، اسی دوران جاپانی کاروباری شخصیت موموفوکو آندو نے اوسااکا میں لوگوں کو سرد موسم میں روایتی نوڈل رامین کے لیے لمبی قطاریں لگاتے دیکھا، جس سے انہیں یہ خیال آیا کہ لوگوں میں خوراک کی دستیابی سلامتی کی ضمانت ہے۔
فٹ بال کے میدان کے برابر، دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا جزیرہ
آندو نے تحقیق شروع کی اور 1958 میں دنیا کے پہلے انسٹنٹ نوڈلز، یعنی چکن رامین متعارف کروائے، ان نوڈلز کو بہت تیز اور مختصر وقت کے لیے تل کر نمی نکالی گئی تھی، جس سے یہ پانی ڈالنے پر چند منٹ میں تیار ہو جاتے تھے، یہ اختراع جنگ کے بعد کے دور میں سستا، آسان اور موثر غذائی حل ثابت ہوئی۔
بعد ازاں، 1971 میں آندو نے کپ نوڈلز متعارف کروائے، جس میں نوڈلز، پیکنگ اور کھانے کا برتن ایک ساتھ شامل تھا۔ اس نے آسان خوراک کے تصور کو عالمی سطح پر فروغ دیا اور مختلف ممالک میں ذائقوں کو مقامی ترجیحات کے مطابق ڈھالا گیا۔
بیٹھ کر پانی پینا سنت؛ سائنس نے اس کے فوائد بھی بتادیے
آج انسٹنٹ نوڈلز نہ صرف طلبہ، مسافروں اور مصروف افراد کے لیے سہل خوراک ہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر تیز، آسان اور لذیذ کھانے کی علامت بھی بن چکے ہیں۔
