مشہور فائٹنگ ویڈیو گیم ۔۔ اسٹریٹ فائٹر۔۔۔ ایک بار پھر بڑی اسکرین پر واپسی کے لیے تیار کھڑی ہے۔
کیپکام کے عظیم گیم پر مبنی نئی ہالی ووڈ فلم کا پہلا ٹریلر جاری ہوتے ہی گیمنگ اور فلمی دنیا میں جوش کی لہر دوڑ گئی ہے اور سب کو وہی پرانا ویڈیو گیم اور اس میں برستے آگ کے گولے یاد آگئے۔
یہ وہی ویڈیو گیم ہیں جو ٹوکن ڈال کر کھیلے جاتے تھے ۔ اس طرح ویڈیو گیمز کی دکان ہر گلی محلوں میں ہوتی تھی جس کے بعد جگہ ڈبو نے لی اور پھر اسنوکر بھی آ کر غائب ہوگیا۔
اسٹریٹ فائٹر کا آغاز 1987 میں ایک آرکیڈ فائٹنگ گیم کے طور پر ہوا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے عالمی مقبولیت حاصل کر لی۔ یہ گیم اپنے منفرد فائٹرز، طاقتور فائٹنگ اسٹائلز اور خطرناک دشمن کے خلاف جدوجہد کے باعث آج بھی ایک لیجنڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس گیم میں ہیرو دنیا بھر کے جنگجوو کو ان کے ملک میں جا کر ہرانے کی کوشش کرتا ہے ۔ پہلے گیم میں یہ دنیا پانچ ممالک پر مشتمل تھی جاپان، چین ، انگلینڈ اورا مریکا لیکن اس گیم کا اختتام تھائی لینڈ میں ساگات کے میدان میں ہوتا ہے ۔
اسٹریٹ فائٹر ٹو انیس سو اکیانوے میں ریلیز ہوا اس بار گیم میں انگلینڈ کی چھٹی ہوگئی اور برازیل کے ساتھ انڈیا ، روز اور اسپین نے اینٹری ماری ، اس گیم میں بلانکا ، ای ہونڈا ، اور ویگا نے سب میں مقبولیت پائی ۔
نئی فلم کا ٹریلر ناظرین کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں کلاسک اسٹریٹ فائٹر کا انداز جدید سنیماٹک ٹچ کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے، اور مشہور کردار ایک بار پھر اسکرین پر جان ڈال دیتے ہیں۔
فلم کی کہانی کا محوررِیو اور کَین ہیں جو طاقت، نظم و ضبط اور اندرونی جدوجہد کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ چُن لِی، انصاف کی تلاش میں دشمنوں کا سامنا کرتی دکھائی دیتی ہے، جبکہ گائِل، اپنے ملک اور کھوئی ہوئی عزت کے لیے میدان میں اترتا ہے۔
دوسری جانب شَڈالُو تنظیم کا سربراہ بائسن دنیا پر قبضے کے خواب کے ساتھ ایک خطرناک منصوبہ تیار کرتا نظر آتا ہے۔
اسٹریٹ فائٹر پر بننے والی ایک اور فلم انیس سو چورانوے میں بھی ریلیز ہوئی تھی۔ اس میں ہیرو کوئی اور نہیں ایکشن اور مارشل آرٹس کے بادشاہ وین ڈیم تھے ۔ ناقدین اور گیمنگ فینز کی جانب سے اسے زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی تھی۔
اب تقریباً تین دہائیوں بعد یہ فلم ایک بار پھر جدید ٹیکنالوجی اور نئے انداز کے ساتھ بڑی اسکرین پر واپس آرہی ہے۔ جس سے پرانے فینز کے ساتھ نئی نسل کی دلچسپی بھی بڑھ گئی ہے۔
اسٹریٹ فائٹر فلم اگلے سال دنیا بھر کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی، جبکہ ٹریلر نے ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر لاکھوں ویوز حاصل کر لیے ہیں۔
