اسلام آباد: سینٹر فیصل واوڈا نے کئی اہم انکشافات کیے اور اپنے سیاسی تجربات، تعلقات اور تنازعات کے حوالے سے کھل کربات کی۔
ہم نیوز کے پروگرام “کوئسچن آور” میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ وہ رانا ثنا اللہ کو اپنا دوست سمجھتے ہیں اور جیل سے آنے کے بعد بھی رانا ثنا اللہ نے ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ رانا ثنا اللہ کے بارے میں زیادہ کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھتے اور ان کے وزرا نے وہی بات کی جو انہوں نے پہلے کہی تھی۔
فیصل واوڈا نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے کہا کہ وہ ہمیشہ انہیں روکتے رہے تاکہ وہ ایسی جگہ نہ جائیں جہاں سے واپسی مشکل ہو لیکن بانی پی ٹی آئی نے ان کی نصیحت کو نہیں مانا۔
وزیراعظم کی روسی ، ترکیہ ، تاجکستان اور کرغزستان کے صدور سے ملاقاتیں
انہوں نے مزید کہا کہ پوری پی ٹی آئی ان کے پیچھے لگ گئی ہے لیکن وہ ان کو نچاتے رہیں گے اورانہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ پی ٹی آئی ان کے بارے میں کیا کہتی ہے۔
انہوں نے 9 مئی سانحہ سے ایک سال قبل پارٹی سے نکالے جانے کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ اپنی ہر کہی گئی بات کی ذمہ داری لیتے ہیں۔
فیض حمید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ نہ تو انہیں توڑ سکے نہ جھکا سکے اوران کے خلاف جنگ اس وقت لڑی جب فیض حمید وردی میں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں پریس کانفرنس کرنے سے روکا تاکہ فیض حمید کے خلاف کوئی بیان نہ دیا جائے اورانہوں نے فوج کے احترام کا بھی اعادہ کیا۔
فیصل واوڈا نے عدالت کے حوالے سے بتایا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے فیض حمید کی فرمائش پرانہیں دو بار نااہل کیا۔
انہوں نے اپنے سیکریٹری کے بازیاب ہونے، نیب کیسز اور وزارت کے باوجود پیچھے نہ ہٹنے اور سیاسی دلدل میں رہتے ہوئے شفافیت اوراصول پر قائم رہنے کی بات بھی کی۔
