معروف مارننگ شو کی میزبان ندا یاسر نے تمام فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز سے معافی مانگ لی ہے۔
ندا یاسر سے اپنے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے کہا کہ پچھلے پروگرام میں آپ سے میں نے اپنا ذاتی تجربہ شیئر کیا، جو کہ بُرا تجربہ تھا، کوتاہی مجھ سے یہ ہوئی کہ میں نے الفاظ کے چُناؤ میں کوتاہی کر دی، جو شاید عام زندگی میں بات کرتے کرتے ہو جاتی ہے، یہ میرا براہِ راست شو ہے، ریکارڈ نہیں۔
یوٹیوبر رجب بٹ اور ٹک ٹاکر ندیم نانی والا اسلام آباد ہائیکورٹ پیش
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ میں نے رائیڈر کے حوالے سے جب اپنا بُرا تجربہ شیئر کیا، تو مجھے اس میں یہ لفظ شامل کرنا چاہیے تھا کہ کچھ لوگ ایسا کر جاتے ہیں، میں نے پوری کمیونٹی رائیڈرز کو نہیں کہا، میرا دل یہ نہیں تھا۔
ندا نے کہا کہ مجھے یہ لفظ شامل کرنا چاہیے تھا کیونکہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، بہت سارے ایسے رائیڈرز ہیں جو بہت ایماندار ہیں، اور بڑی محنت اور مشقت سے اپنی زندگی کے خرچے اُٹھا رہے ہیں، میں یہاں کسی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتی۔
ندا یاسر نے کہا کہ میں انسان ہوں فرشتہ نہیں، اور کبھی کبھار لفظوں کی ہیرا پھیری کی وجہ سے جو دل میں ہوتا ہے وہ زبان پر کسی اور انداز میں بیان ہو جاتا ہے، اور میرے پیارے رائیڈرز بھائی جو مجھے اس وقت دیکھ رہے ہیں، میری وجہ سے اگر آپ دُکھی ہوئے ہیں تو سچے دل سے آپ سے معذرت کرنا چاہتی ہوں۔
رنویر سنگھ کی فلم دھریندر ریلیز، سرحد کے دونوں جانب ناظرین میں اختلافِ رائے جاری
یاد رہے کہ ندا یاسر نے اپنے شو میں کہا تھا کہ بعض ڈیلیوری رائیڈرز جان بوجھ کر چھوٹا پیسہ ساتھ نہیں رکھتے تاکہ کسٹمرز کو اضافی ٹپ دینے پر مجبور کیا جا سکے، جس کے نتیجے میں صارفین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ندا یاسر نے مزید کہا تھا کہ جب ان فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز کو انتظار کرنا پڑتا ہے اور وہ اپنی اگلی ڈلیوریز دیر سے پہنچتے ہیں، تو پھر وہ سمجھ جاتے ہیں، یہ عادت اب بہت سے رائیڈرز میں معمول بن گئی ہے۔
ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور اسے محنت کشوں کے لیے غیر حساس قرار دیا، کئی لوگوں نے کہا کہ اگر 50 یا 100 روپے دے دو گی تو کچھ نہیں ہوگا، جبکہ بعض نے کہا کہ بڑے برانڈز سے شاپنگ کرنے میں انہیں کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
