بالی ووڈ کے مشہور اداکار رنویر سنگھ کی پاکستان مخالف فلم دھریندر ریلیز ہونے کے بعد بھارت اور پاکستان کے ناظرین میں اختلاف رائے جاری ہیں، کچھ نے فلم کو سراہا، تو بہت سے افراد نے اسے پروپیگنڈا قرار دیا۔
دھریندر فلم پر تنقید کرنے والے پاکستانی ناظرین نے اسے ایک ”مبالغہ شدہ پروپیگنڈا“ قرار دیا، اور تنقید کی کہ ہماری اپنی تفریحی صنعت نے ان کہانیوں پر کام کرنے سے گریز کیا جو ہماری حقیقت کا حصہ ہیں.
برطانیہ نے رجب بٹ کو ملک بدر کردیا،وجہ بھی سامنے آگئی
بھارتی صحافی اور سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیرونی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ فلم دھریندر صرف پریشان کن نہیں ہے، یہ فلم اکثریت پسندی، مسلمانوں کے خلاف تعصب اور خواتین دشمنی کا خطرناک امتزاج ہے، اور فلم میں دکھائے گئے تشدد اور خون خرابے نے اسے اور بھی خطرناک بنا دیا ہے۔ سینسر بورڈ نے یہ فلم کیسے منظور کی؟۔
Dhurandhar isn’t just troubling.
It is a toxic cocktail of majoritarianism, anti-Muslim bigotry and misogyny, made even more dangerous by the film’s glorified violence and gore.
How did the censor board even clear it ? pic.twitter.com/7kpBVWk2TI— Arfa Khanum Sherwani (@khanumarfa) December 9, 2025
ادھر بعض افراد نے اس مثبت پہلو پر روشنی ڈالی کہ فلم نے بلوچ ثقافت کو اس انداز سے متعارف کروایا جو عام ڈراموں اور فلموں میں نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ فلم کا سیاسی پس منظر قابل بحث ہے، مگر بلوچ ناچ-رقص اور ثقافتی نمائندگی کے مناظر نایاب اور مضبوط تھے۔

سوشل میڈیا پر تنقید میں یہ بھی سامنے آئی ہے کہ فلم نے سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کی تصاویر اور اُن کے سیاسی پس منظر کو بغیر مناسب تناظر کے دکھایا، جس پر ایک سرکاری حکومتی ترجمان کی جانب سے اعتراض بھی کیا گیا۔
دھریندر نے تجارتی لحاظ سے کامیابی کے واضح آثار دکھائے ہیں۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، فلم نے پہلے چند دنوں میں باکس آفس پر مقابلے کی سب سے بڑی فلموں میں جگہ بنا لی ہے۔
