بالی ووڈ کے مشہور اداکار رنویر سنگھ کی بڑی اسکرین پر ریلیز ہونے والی پاکستان مخالف فلم دھریندر ریلیز سے چند روز قبل قانونی تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔
مرحوم میجر موہت شرما کے خاندان نے دہلی ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ فلم کی ریلیز فوراً روکی جائے، کیونکہ ان کے مطابق فلم بظاہر میجر شرما کی زندگی اور خفیہ آپریشنز سے متاثر نظر آتی ہے، جبکہ خاندان کی اجازت حاصل نہیں کی گئی۔
مفتی عبدالقوی کا ایشوریا رائے سے نکاح کے حوالے سے حیران کن دعویٰٰ
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر فلم میں ان کی زندگی یا خفیہ مشنز سے معمولی سا بھی تخیلاتی عنصر شامل کیا گیا، تو یہ مرحوم کے بعد کے شخصی حقوق اور خاندان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے۔
خاندان نے مزید خبردار کیا کہ اگر فلم میں میجر شرما کے خفیہ آپریشنز کے عناصر شامل ہیں، تو یہ عوام کے لیے کبھی منظرِ عام پر نہ آنے والے راز افشاء کر سکتے ہیں، جس سے قومی سلامتی کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی اس تنازع کی شروعات ہوئی، جہاں صارفین نے قیاس کیا کہ فلم سینئر افسر کی زندگی سے متاثر نظر آتی ہے۔
درخواست میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ فلمساز حقیقی شہداء کی زندگی پر مبنی فلم بنانے سے قبل ان کے خاندان اور فوج سے اجازت حاصل کریں۔
دھرمیندرا کی موت کے بعد ہیما مالینی کا پہلا جذباتی پیغام سامنے آ گیا
ڈائریکٹر ادیتیہ دھڑ نے فوری طور پر اس تاثر کی تردید کی اور کہا کہ فلم کا میجر شرما سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ مستقبل میں اگر کوئی بایوپک بنائی جائے، تو وہ صرف خاندان اور بھارتی فوج کی مکمل اجازت کے بعد ہی تیار کی جائے گی۔
ہائی کورٹ اس معاملے پر اگلے ہفتے سماعت کرے گی۔ اس دوران، 5 دسمبر کو ریلیز ہونے والی فلم ’دھرندھر‘ غیر یقینی صورتحال میں معلق ہے۔
